باغی سے ایتھلیٹ تک

تصویر کے کاپی رائٹ

میرا رائے دس برس پہلے ایک نوجوان ماؤ باغی گوریلا تھیں جو حکومت کو مطلوب تھیں۔ دس سال بعد میرا رائے نیپال کی سب سے ہونہار ایتھلیٹ ہیں۔ نیپال کی کمسن فوجی اب نیپال کی سب سے مشہور ایتھلیٹ بننے والی ہیں۔

کھٹمنڈو کی ایک گرد آلود گلی میں بیلجیئم سفارت خانے کے تعاون سے چلنے والا شراب خانہ وہ جگہ ہے جہاں میں پہلی بار نیپال کی مستقبل کی سپر سٹار سے ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

میرا رائے کی کہانی بھی عجیب ہے۔ میرا رائے نے گھر سے بھاگ کر مشکل زندگی سے جان چھڑائی۔

نیپال کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صنفی تفریق انتہائی زیادہ ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق نیپال صنفی تفریق کے انڈیکس پر 121ویں نمبر پر ہے جہاں عورت کو ’پرایا دھن‘ تصور کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

نیپال کو لمبے عرصے جس آئین کا انتظار تھا اس کے تحت بھی ایک غیر شادی شدہ عورت کے بچے نیپال کے شہری بننے کے اہل نہیں ہیں۔

نیپال کے شمالی خطے کا گاؤں سانو دوما بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے جہاں لڑکیوں کے لیے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میرا رائے بھی ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئی جہاں لڑکوں کو تو سکول بھیجا جاتا تھا اور لڑکیوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ گھر کے کام کریں اور مناسب وقت پر ان کی شادی کر دی جائے اور وہ بچے پیدا کریں۔

میرا رائے کو سب کچھ نہیں کرنا تھا۔ وہ گھر سے بھاگ کر مارکیٹ چلی جاتی تھیں جہاں سے وہ چاول کے تھیلے خرید کر واپس آتی اور انھیں زیادہ قیمت پر بیچتی تھی۔ میرا رائے جس مارکیٹ میں جاتی تھیں اس تک پہنچنے کے لیے تین گھنٹے کی مسافت طے کرنی ہوتی تھی اور جب وہ واپس آتی تھیں تو انھوں نے 28 کلوگرام چاول اٹھا رکھے ہوتے۔

میرا رائے بتاتی ہیں کہ ایک دن انھوں نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ کیمپنگ کے لیے جا رہی ہے اور وہ ماؤ باغیوں سے منسلک ہو گئیں۔ میرا رائے بتاتی ہیں کہ انھوں نے سات ماہ تک اپنی ماں سے کوئی رابطہ نہیں کیا لیکن انھیں پتہ چلا کہ ماں نے گھر کے کام کاج سے تنگ آ کر خود کشی بھی کرنے کی کوشش کی تھی۔

میرا رائے جب 2003 میں ماؤ باغیوں سے ملیں اس وقت باغیوں کے لیے حالات مشکل ہو چکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

باغیوں سے ملنے کے بعد میرا رائے کو جس چیز نے متاثر کیا وہ کھیل کی سہولیات تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ باغیوں کے پاس فٹبال، والی بال اور ایتھلٹکس کی سہولیات تھیں۔

نیپال میں جب 2006 جنگ ختم ہوئی تو میرا رائے بھی حکومت کی بحالی کے پروگرام میں شریک ہوگئیں لیکن انھوں نےاس دوران بھی اپنی دوڑ کو جاری رکھا۔

میرا رائے نے جب پہلی بار 21 میل کی پہلی دوڑ میں حصہ لیا تو وہ خالی پیٹ تھیں اور دوڑ کے اختتام سےصرف 400 میٹر پہلے وہ بھوک کے مارے گر گئیں۔

جب وہ کٹھمنڈو منتقل ہوئیں تو انھوں نے ایک مہربان کراٹے استاد کی مدد سے اپنا شوق جاری رکھا۔

اسی دوران انھیں 80کلومیٹر لمبی پہاڑی دوڑ کے بارے پتہ چلا۔ 2014 میں میرا رائےنے کٹھمنڈو وادی کے پہاڑوں پر 50 کلومیٹر لمبی دوڑ میں حصہ لیا۔ جب وہ دوڑ میں حصہ لینے کے پہنچیں تو انھوں نے ایسے جوتے پہن رکھے تھے جن کی مالیت دو امریکی ڈالر ہو گی۔ میرا کے جوتے دیکھ ایک جاپانی ایتھلیٹ نے کہا کہ انھیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی بھوت جنگل میں بھاگ رہا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ

لیکن اس دوڑ کے منتظم رچرڈ بل نے فوراً بھانپ لیا کہ ایک ہونہار ایتھلیٹ ان کے سامنے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے میرا رائے سے کہا کہ تمھیں اپنی دوڑ جاری رکھنے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے تو اس کا جواب تھا ’خوراک کے لیے پیسوں کی۔‘

میرا رائے رچرڈ بل کے مشورے پر نیپال کے پہاڑی ٹریک پر 200 کلو میٹر لمبی موستانگ ماؤنٹن ریس میں شریک ہوئیں اور اسے جیت لیا۔ پھر رچرڈ بل نے میرا رائے کو یورپ بھیجنے کا پروگرام بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

میرا رائے جب پہلی یورپ کے سفر پر روانہ ہوئیں تو یہ ان کی زندگی میں پہلا موقع تھا جب انھوں نے ہوائی جہاز میں سفر کیا تھا۔ میرا رائے نے یورپ کے پہلے دورے کے دوران ہی موں بلاں سکائی رنر سیریز کی 82 کلومیٹر کی دوڑ جیتی۔ یہ دوڑ میرا رائے نے اتنی آسانی سے جیتی کہ دوسرے نمبر پر آنے والا ایتھلیٹ ان سے 21 منٹ پیچھے تھا۔

میرا رائے پہلی بار ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی کو سر کرنے والے سر ایڈمنڈ ہلیری کے ہمراہ نیپالی شرپا تنزنگ جتنی مشہور ہونے والی ہیں۔ میرا رائے اس خیال پر ہنستی ہیں اور کہتی ہیں کہ انھوں نے تو صرف اپنے مستقبل سے بچنے کے لیے دوڑنا شروع کیا تھا۔