’میں کشمیر پر دنیا میں کسی کی نہیں سُنتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ واجپائی کے دور اقتدار میں بی جے پی نے کشمیر کے بارے میں حتمی پالیسی سازی نہیں کی تھی، لیکن مودی کا دور مختلف ہے

بھارتی زیرانتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید کئی ہفتوں سے کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم نریندر مودی لوگوں کی تقدیر بدلنے آرہے ہیں۔ جب کشمیر کے لوگ فقیدالمثال سکیورٹی پابندیوں اورگرفتاریوں کے باعث گھٹن محسوس کررہے تھے، مفتی سعید نے بار بار کہا کہ نریندر موودی کا دورہ تاریخی ہوگا۔

کڑے سکیورٹی حصار میں سنیچر کو جب یہ ریلی ہوئی تو مسٹر مودی نے کشمیر کے سیاسی پہلو کو نظرانداز کیا اور پاکستان کا ذکر تک نہیں کیا۔

کشمیر کو دوبارہ جنت بنانا چاہتا ہوں: نریندر مودی

مودی کا دورہ، کشمیر میں ناکہ بندی اور گرفتاریاں

سٹیج پر نریندر مودی موجود تھے جب استقبالیہ تقریر میں مفتی محمد سعید نے 18 اپریل 2003 کا وہ دن یاد دلایا جب اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے اسی سٹیج سے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔

انھوں نے نریندر مودی سے مخاطب ہوکر کہا: ’اگر بھارت کو آگے بڑھنا ہے، ایک بڑی طاقت بننا ہے، ترقی کی شرح بڑھانی ہے تو بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا۔‘

مفتی سعید 40 منٹ تک نریندر مودی کی تقریر تذبذب کے ساتھ سن رہے تھے لیکن نریندر مودی نے سری نگر میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات یا پاکستان کے ساتھ رشتوں کی بحالی کا ذکر تک نہیں کیا۔

اس کے برعکس انھوں نے اشاروں کنایوں میں مفتی سعید کو باور کرایا کہ وہ کشمیر یا پاکستان کے بارے میں حکومت ہند کو مشورہ دینے کی جسارت نہ کریں۔

نریندر مودی نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’میں کشمیر کے گاؤں گاؤں گھوما ہوں، تب گھوما ہوں جب یہاں حالات بھی خراب تھے۔ میں کشمیر کو جانتا ہوں، مجھے دنیا میں کسی کے مشورے یا تجزِیے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’واقعی اس جملے نے مفتی سعید اور ان کی بیٹی محبوبہ کو اپنے صحیح مقام پر پہنچادیا‘

حالانکہ بھارتی وزیراعظم نے سیلاب کے متاثرین کی بحالی اور دوسرے ترقیاتی منصوبوں کےلیے 80 ارب روپے کے مالی پیکیج کا اعلان کیا، لیکن کشمیر یا پاکستان کے بارے میں کرخت لہجہ اپنا کر انھوں نے مفتی سعید کے سیاسی بیان پر سوالیہ لگا دیا۔

مفتی سعید نے سنہ 1998 میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بنائی۔ اس کے ایک سال بعد پاکستان میں جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پاکستان کی کشمیر پالیسی میں لچک پائی گئی۔

سنہ 2002 میں مفتی سعید کشمیر کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ ایک سال بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدوں پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔

بعد ازاں مفتی سعید نے ہندنواز سیاست کا لہجہ کچھ اس طرح ترتیب دیا گویا وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک پُل کا کام کررہے ہوں۔

حالات ان کے موافق تھے، کیونکہ جنگ بندی کے بعد ہی لائن آف کنٹرول کو سفر اور تجارت کےلیے نرم کیا گیا اور بھارتی حکومت نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار کیے۔

تب سے ہی مفتی سعید خود کو اور اپنی پارٹی کو ’سافٹ سیپریٹزم‘ یعنی بھارت مخالف گروپوں کے اعتدال پسند روپ کے طور پیش کرتے رہے ہیں۔

انھیں اسی وجہ سے عوامی ہمدردیاں اور حمایت بھی حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی پی ڈی پی 87 رکنی اسمبلی میں 28 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور موجود ہے، لیکن نریندر مودی نے کشمیر کے تازہ دورے کے دوران گویا مفتی سعید کے اس ماڈریٹ بیانیہ پر پانی پھیر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مفتی سعید نے اسی بنیاد پر کہا تھا کہ یہ تاریخی دورہ ہوگا اور نریندرمودی تقدیر بدلنے آرہے ہیں

نیشنل کانفرنس کے صدر عمرعبداللہ نے نریندر مودی کے اس ریمارک پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا: ’واقعی اس جملے نے مفتی سعید اور ان کی بیٹی محبوبہ کو اپنے صحیح مقام پر پہنچادیا۔‘

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ واجپائی کے دور اقتدار میں بی جے پی نے کشمیر کے بارے میں حتمی پالیسی سازی نہیں کی تھی، لیکن مودی کا دور مختلف ہے۔

’مودی پاکستان یا کشمیر کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس آڑ میں کشمیر کی کسی ہندنواز پارٹی کو کریڈٹ نہیں د یں گے۔‘

قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس کے میر واعظ گروپ کو بھی توقع تھی کہ اٹل بہاری واجپائی کی طرز پر نریندر مودی کم از کم علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کی خواہش کا اظہار کریں گے، لیکن نریندر مودی کے لہجے میں اس قدر بے التفاتی تھی ایسا لگا کہ وہ کشمیر نہیں بھارت کے کسی اور نارمل خطے میں خطاب کررہے ہوں۔

مفتی سعید نے اسی بنیاد پر کہا تھا کہ یہ تاریخی دورہ ہوگا اور نریندرمودی تقدیر بدلنے آ رہے ہیں۔ انھیں مالی پیکیج تو ملا، جو کہ ایک روایت ہے، لیکن سیاسی پیکیج سے مودی کا کرارا انکار مفتی کی سیاست کو ضرور متاثر کرےگا۔

اسی بارے میں