بہار میں بی جے پی مخالف اتحاد کی واضح اکثریت

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بہار انتخابات کے رجحانات میں وسیع اتحاد کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے

بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں لالو پرساد، نتیش کمار اور کانگریس اتحاد کی واضح اکثریت کے بعد بی جے پی نے شکست تسلیم کر لی ہے۔

بی جے پی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو مبارکباد دی ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو فون کرکے انھیں جیت پر مبارک باد دی ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق تمام 243 سیٹوں کے نتائج آ گئے ہیں جن میں لالو پرساد کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کو سب سے زیادہ 80 سیٹیں ملی ہیں جبکہ نتیش کمار کی پارٹی یونائٹیڈ جنتا دل کو 71 سیٹیں آئی ہیں۔ کانگریس کو 27 جبکہ بی جے پی کو 53 سیٹیں ملی ہیں۔

اس طرح کانگریس، جے ڈی یو اور آرجے ڈی کے وسیع اتحاد کو دو تہائی سے زیادہ کی اکثریت حاصل ہو گئی ہے اور بی جے پی کو بڑی حزیمت کا سامنا رہا۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج کے اپنے پہلے ٹویٹ میں بہار کے لوگوں کا زبردست حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد مبارکباد دینے والے سرکردہ رہنماؤں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Saandilya
Image caption بہار میں وسیع اتحاد کی جیت کی خوشیاں منانے کے لیے پارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے

انھوں نے لکھا: ’ہم آپ کی زبردست حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم اپنی فتح میں باوقار رہیں گے۔‘

لالو پرساد کی پارٹی کو سب سے زیادہ سیٹیں حاصل ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ انھوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں بہار کی عوام کا شکریہ ادا کیا وہیں یہ بھی کہا کہ ’بی جے پی کو دہلی میں ایک دن بھی رکھنا ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہے۔ ہم لوگ اس کے خلاف مہم چلائیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہم لوگ نریندر مودی کی فاسشٹ حکومت کو نکال پھیکیں گے۔‘

جبکہ کانگریس رہنما احمد پٹیل نے کہا: ’بہار کی قیادت اور کارکنوں کو مبارک باد، راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائٹیڈ کو بھی۔ سب نے محنت کی اور این ڈی اے کے جھوٹے دعووں کو شکست دے دی۔‘

Image caption لالو پرساد نے کہا ہے کہ اب وہ ملک گیر پیمانے پر مودی حکومت کے خلاف مہم چلائيں گے

جے ڈی یو کے سرکردہ رہنما شرد یادو کا کہنا ہے کہ ’یہ جیت عوام میں پائی جانے والی بے چینی کی جیت ہے۔‘

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ بہار کے نتائج نے وزیر اعظم مودی کو یہ پیغام دیا ہے کہ بی جے پی اور آرایس ایس ملک کو تقسیم نہیں کر سکتے۔

پی ٹی آئی کے مطابق مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے نیتیش کمار کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ یہ رواداری کی جیت اور عدم رواداری کی ہار ہے۔

خیال رہے کہ بہار میں مقابلہ جے ڈی یو، آر جے ڈی اور کانگریس کے وسیع اتحاد اور بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے درمیان ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج
پارٹی سیٹیں
راشٹریہ جنتا دل (لالو پرساد کی پارٹی) 80
جنتا دل یونائٹیڈ (نتیش کمار کی پارٹی) 71
بی جے پی 53
کانگریس 27
کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ لیننسٹ) 03
لوک جن شکتی پارٹی 02
راشٹریہ لوک سمتا پارٹی 02
ہندوستانی عوام مورچہ (سیکیولر) 01
آزاد 04

بدلتے ہوئے رجحانات کے حوالے سے بی جے پی لیڈر کیلاش وجے ورگيہ نے بھارتی چینل انڈیا ٹی وی سے کہا: ’اس سے انکار نہیں کہ ابھی رجحانات مہا گٹھبندھن (لالو نتیش کے وسیع اتحاد) کے حق میں ہے لیکن مجھے امید ہے کہ یہ بدل سکتا ہے۔ میں اس سے انکار کرتا ہوں کہ ووٹ پولرائز ہوا ہے۔ہم نے ترقی کے نام پر ووٹ مانگا لیکن ابھی کے رجحانات سے یہ لگ رہا ہے کہ ہم اپنی بات ووٹروں تک نہیں پہنچا سکے۔‘

پٹنہ سے ہمارے نمائندے پنکج پریہ درشی نے بتایا ہے کہ جے ڈی یو کے وسیع اتحاد کے دفتر کے سامنے جشن کا ماحول ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ابتدائی رجحانات کے ساتھ ہی مختلف جماعتوں میں مختلف احساسات و جذبات نظر آ رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ انتخاب بہار کے لیے ہی نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کی سمت و رفتار بھی متعین کریں گے۔

Image caption جے ڈی یو کے دفتر میں جشن کا ماحول

بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی جیت سے مودی ذاتی طور پرانتہائی طاقتور ہو جائیں گے۔بہار میں انتخابی مہم کی قیادت خود انھوں نے کی تھی ۔ اس جیت کے ساتھ مودی کا اعتماد اور بڑھےگا اور وہ اپنے ایجنڈے پر تیزی سے عمل کر سکیں گے۔

لیکن جس طرح انھوں نے بہار کے انتخابات میں ہندوتوا کا پرانا فارمولہ استعمال کیا اس سے اشارہ ملتا ہےکہ ہندوتوا کی طاقتیں بھی پہلے سے زیادہ متحرک ہو جائیں گی۔وہ پہلے ہی کافی تیزی کےساتھ حکومتی نظام کے ہر شعبے پر اثر انداز ہونے لگی ہیں۔

تاہم اگر بی جے پی کی شکست ہوئی تو نتیش کمار کے گرد حزب اختلاف کی جماعتوں کا ایک نیا محاذ متحد ہونے لگےگا۔ مودی اگرچہ ایک منتخب وزیر اعظم ہیں اس کے باوجود ان کی پوزیشن کمزر ہو جائے گی۔

اسی بارے میں