بہار میں ’نفرت اور عدم رواداری‘ کی شکست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی نے اس انتخاب کو ہر قیمت پر جیتنے کا تہیہ کر رکھا تھا

بہار میں نیتیش کمار، لالو پرساد اور کانگریس کے محاذ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو زبردست سیاسی دھچکا دیا ہے۔ صوبائی انتخابات میں بی جے پی کو ایسی شکست فاش ہوئی ہے جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں رہا ہوگا۔

بہار کے صوبائی انتخابات کے نتائج کو بی جے پی کے مخالفین غرور، منافرت اور عدم رواداری کے بی جے پی کے نظریے کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔

بہار میں بی جے پی نے شکست تسلیم کر لی

بہار میں وزیراعظم نریندر مودی نے 40 سے زیادہ انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا تھا۔ پوری انتخابی مہم مودی اور پارٹی کے صدر امت شاہ نے چلائی تھی۔ انتخابی سرگرمیوں کے جائزے کے لیے دلی میں ایک ’ٹکنولوجی روم‘ اور ایک ’وار روم‘ بنایا گیا تھا۔

چھ لاکھ سے زیادہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکن پارٹی کے حامیوں کو پولنگ بوتھوں تک پہنچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ان نتائج سے لالو اور نتیش کمار کے قد میں اضافہ ہوا ہے

انتخابات کے دوران مذہبی منافرت کے ذریعے ہندوؤں کا ووٹ متحد کرنے کی کوشش کی گئی۔ مودی نے اس انتخاب کو ہر قیمت پر جیتنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ اگر بہار میں ان کی جیت ہوئی ہوتی تو ان کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوتا۔

دلی ریاست کے بعد بہار میں مسلسل ان کی دوسری شکست ہے۔ مودی اور امت کی قیادت کے بارے میں یقیناً سوالات پیدہ ہوں گے۔ وزیر اعظم مودی کی اتھارٹی کمزور ہوگی۔

اس شکست سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ان کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے بی جے اور آر ایس ایس سے وابستہ سخت گیر ہندو توا کے رہنماؤں کی طرف سے تشوشیناک نفرت انگیز بیانات آتے رہے ہیں۔ بہار کی شکست کے بعد مودی کے لیے ان عناصر پر قابو پانا اور بھی مشکل ہوگا۔

پارٹی کے اندر ان کے مخالفین ان کے رفیق اور صدر امت شاہ کی قیادت کی مخالفت بھی شروع کر سکتے ہیں۔

Image caption وسیع اتحاد کے حامیوں میں جیت پر زبردست جشن منایا جا رہا ہے

یہ انتخابی شکست ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عدم رواداری کے خلاف پورے ملک میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور نفرت کی سیاست کے خلاف ہر شعبے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

مودی اس شکست سے پارٹی اور اپنے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی لائیں گے؟

یہ اس مرحلے پر اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن اس نتیجے سے بی جے پی کو زبردست سیاسی دھچکا لگا ہے اور اپوزیشن کو نئی طاقت ملی ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سیاسی حیثیت کافی بڑھ گئی ہے اور مستقبل کی سیاست میں وہ مودی کے خلاف ایک نئے محاذ کی تشکیل کا محور ہوں گے۔

اسی بارے میں