بنگلہ دیش: دو بچوں کے قتل پر چھ افراد کو سزائے موت

Image caption بچوں کے قتل پر بنگلہ دیش میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا تھا

بنگلہ دیش میں رواں سال مختلف واقعات میں دو 13 سالہ بچوں کی تشدد کے بعد ہلاکت کے الزام میں چھ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

چار لوگوں کو سمیع العالم راجن کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کا مجرم پایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کا رکشہ چرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس معاملے مزید چھ افراد کو قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس قتل کو ایک حملہ آور نے اپنے موبائل فون پر قید کر لیا تھا جس کے ردِ عمل میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

ایک دوسرے واقعے میں دو کار میکینکوں کو اپنے سابق ملازم کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

رقیب حوالدار کی موت اگست میں ہوئی تھی۔ کام چھوڑنے کے نتیجے میں اس کے جسم میں ہوا بھر دی گئی تھی۔

Image caption عدالت کے فیصلے کے بعد راجن کے والد کا ردعمل

خیال رہے کہ راجن پر جولائی میں سائیکل رکشہ چرانے کے الزام میں حملہ ہوا تھا۔ یہ واقعہ سلہٹ شہر کے شمال مغربی علاقے میں پیش آيا تھا۔

ایک حملہ آور نے اس واقعے کو اپنے فون پر ریکارڈ کر لیا تھا جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے کو ایک کھمبے سے باندھ دیا گیا ہے اور اسے سریے (راڈ) سے مارا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر ڈالے جانے والے اس ویڈیو میں بچے کو چیختے چلاتے۔ جان کی امان مانگتے اور پانی کے لیے گڑگڑاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے مجھے اس طرح مت مارو میں مر جاؤں گا۔

طبی جانچ میں یہ سامنے آیا کہ اس 13 سالہ بچے کو 64 زخم آئے تھے۔

بی بی سی کے محفوظ صادق کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں چوروں پر مجمعے کی جانب سے اکثر تشدد کیا جاتا ہے لیکن اس میں جو بہیمانہ طرز ہے اس کی وجہ سے شدید احتجاج ہوا۔

اس حادثے پر ہزاروں لوگوں نے سلہٹ اور بنگلہ دیش کے دوسرے علاقوں میں مظاہرہ کیا۔

Image caption سلہٹ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں نے اس بہیمانہ قتل پر احتجاج کیا تھا

اس واقعے میں دراصل 13 افراد پر الزام عائد کیا گیا تھا جن میں سے تین کو رہائی مل گئی جبکہ چھ افراد کو ایک سال سے عمر قید تک کی سزا سنائی گئی۔

قمرالاسلام کو اس کا اصلی مجرم قرار دیا گیا اور ان میں شامل ہے جسے سزائے موت سنائی گئی ہے۔

اس حادثے کے بعد وہ فرار ہو گیا اور سعودی عرب چلا گیا لیکن ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں وہاں رہنے والے بنگلہ دیشیوں نے خبر دے دی اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اکتوبر میں اسے بنگلہ دیش بھیج دیا گيا۔

خیال رہے کہ سزائے موت پانے والے ان چاروں افراد میں سے ایک ابھی بھی فرار ہے۔

اسی بارے میں