مودی کی اصلاحات کا کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسٹر مودی کو بہار کے نتائج سے تین لحاظ سے بڑا دھچکا پہنچا ہے

اتوار کی صبح وزیر اعظم نریندر مودی کے حکمران اتحاد کو اس وقت خاصی ہزیمت اٹھانا پڑی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے مخالف اتحاد نے اسے بہار کے ریاستی انتخابات میں فیصلہ کن شکست سے دوچار کر دیا۔

بہار کے اس نہایت اہم انتخابی دنگل میں مودی کے قومی جمہوری اتحاد کا مقابلہ ’مہاگھٹبندن‘ یا بی جے پی مخالف ’عظیم اتحاد‘ سے تھا۔

اس عظیم اتحاد میں بڑے بڑے علاقائی سیاسی ناموں کے علاوہ انڈین نیشنل کانگریس بھی شامل تھی۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدا ودشمار کے مطابق بی جے پی مخالف اتحاد نے 243 کے ریاستی ایوان میں 178 نشستیں جیت کر تقریباً تین تہائی کی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ ووٹوں کے اعتبار سے نریندر مودی کی اپنی جماعت بے جے پی سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت رہی، لیکن مودی اتحاد کو صرف 58 نشستیں حاصل ہو سکیں۔

عزت کو نقصان

آنے والے دنوں میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں آپ کو ان انتخابات پر کئی قسم کے تجزیے نظر آئیں گے، تاہم اس وقت ہم اسی پر اکتفا کریں گے کہ سیاسی اکھاڑے کے باہر، بہار کے نتائج نریندر مودی کے اصلاحات کے ایجنڈے پر کیسے اثر انداز ہوں گے۔

اگر قلیل مدتی حوالے سے دیکھا جائے تو مسٹر مودی کو بہار کے نتائج سے تین لحاظ سے بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نتیش کمار اور لالو پرساد کہتے ہیں کہ وہ مل کر بہار میں ترقیاتی کام کریں گے

اوّل یہ کہ اس شکست سے مودی کی اپنی عزت کو بہت نقصان پہنچا ہے، دوئم اس سے حکمران اتحاد کے اندر اور باہر کی سیاسی دنیا پیچیدہ ہو گئی ہے، اور سوئم یہ کہ اب پارلیمان مودی کے ایجنڈے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

تاہم اگر ہم اس شکست کے طویل مدتی اثرات کی بات کریں تو ہمیں مودی کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر اس شکست کے متوقع اثرات کو زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہئیے۔

بہار کی شکست خود وزیرِ اعظم کی اپنی شخصیت کے لیے خاصی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ بھارت کے طول وعرض میں مودی کی بے مثال مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے مودی کو اپنی جماعت کا انتخابی چہرہ تسلیم کر لیا ہے۔

بی جے پی کو اس حکمتِ عملی کا فائدہ ہوا اور بہار سے پہلے ہونے والے کئی ریاستی انتخابات میں لوگوں نے نریندر مودی کے نام پر بی جے پی کو خوب ووٹ دیے۔ لیکن بہار میں مسٹر مودی کا پالا نتیش کُمار سے پڑ گیا جو خود مسٹر مودی کی طرح ترقی کی بشارتیں دیتے ہیں اور وزیرِ اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی لوگ ان کی حکومت سے ناخوش نہیں تھے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی سطح پر کسی بڑے نام کی غیرموجودگی میں بی جے پی نے’مودی کے جادو‘ پر جو تکیہ کیا، اس میں اسے منہ کی کھانا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اب اس غبارے سے ہوا نکل گئی ہے کہ مسٹر مودی کو کوئی نہیں ہرا سکتا

دہلی اور پھر بہار کے ریاستی انتخابات میں واضح شکستوں کے بعد اس غبارے سے ہوا نکل گئی ہے کہ مسٹر مودی اور ان کے معتمد خاص، یعنی بی جے پی کے صدر امت شاہ کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔

مسٹر مودی کی شان میں اس کمی کا نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ ان کی جماعت کے اندر وہ لوگ زیادہ کُھل کے بات کرنے لگیں گے جو کل تک مسٹر مودی کے اندازِ حکومت سے متاثر نہیں تھے یا پارٹی کے معاملات پر مسٹر مودی اور مسٹر شاہ کی مضبوط گرفت سے تنگ ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بہار میں بری شکست سے بی جے پی کے اندر موجود ان لوگوں کو تازہ ہوا ملے گی جو ان دونوں حضرات سے بیزار ہو رہے تھے۔

جہاں تک بی جے پی سے باہر کی سیاسی دنیا کا تعلق ہے تو بہار کے انتخابی نتائج کے دو اثرات مرتب ہوں گے۔

’مودی مودی کی لہر‘ کو شکست

ان نتائج سے وزیرِ اعلی نتیش کُمار کی ذات ابھر کر سامنے آئی ہے اور چوتھی مرتبہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اب وہ ایک ایسے سیاسی رہنما بن گئے ہیں جو قومی سطح پر حزب اختلاف کی بڑی آواز بن سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان نتائج سے وزیرِ اعلی نتیش کُمار کی ذات ابھر کر سامنے آئی ہے

دوسرا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہار کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر آپس میں متحد ہو جائیں تو مودی مخالف جماعتیں ’مودی مودی کی لہر‘ کا مقابلہ کامیابی سے کر سکتی ہیں۔

بہار انتخابات سے تیسری بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ اب بی جے پی کی شکست کے بعد مسٹر مودی کے لیے اپنی مرضی کی ہر ترمیم کرانا مشکل ہو گیا ہے اور پارلیمان ان کی راہ میں رکارٹ بن سکتی ہے۔

بہار میں شکست کے بعد اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں کہ مرکز میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں پارلیمان کے موسم سرما کے اجلاس میں متوقع کئی اہم معاملات پر حکومت کی کُھل کر مخالفت کر سکیں گی۔

بہار سے باہر اثرات

مودی کے ’برانڈ نام‘ کو دھچکا لگ جانے کے بعد اور بی جے پی کے اندر بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کے پیش نظر اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں کہ بی جے پی کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ تاہم جہاں تک طویل مدتی اصلاحات کا تعلق ہے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ بہار کے انتخابات مودی کے معاشی اصلاحات کے منصوبوں پر کیا اثرات مرتب کریں گے۔

وزیر اعظم نے آج تک جو اصلاحات متعارف کرائی ہیں ان سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وہ یکدم کسی بڑی تبدیلی کے قائل نہیں، بلکہ ملک میں معاشی تبدیلی کے ایک سلسلہ وار پروگرام پر آہستہ آہستہ عمل درآمد کے قائل ہیں۔ بھارت کے جمہوری نظام اور حکمران اتحاد کے اندر کے اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا اس بات کے امکانات کم ہی ہیں کہ مسٹر مودی کی آہستہ آہستہ اصلاحات کی حمکتِ عملی میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔

اس دوران جہاں جہاں ممکن ہوا مسٹر مودی ایک منقسم پارلیمان کو توڑ موڑ کر اپنے حق میں استعمال کریں گے اور اصلاحات کے لیے پارلیمان میں رائے دہی کی بجائے ایگزیکٹو آرڈر کا استعمال کریں گے۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ آپ یہ توقع بالکل نہ کریں مسٹر مودی بہار کے انتخابی نتائج کا سوچ سوچ کر پریشان ہوتے رہیں گے۔

اوریہ بھی نہ بھولیے کہ بھارت میں ریاستی انتخابات بہت مدت کے بعد ہوتے ہیں، بلکہ سچ یہ ہے کہ جلد ہی ہم کسی اور ریاست میں انتخابات کی بات کر رہے ہوں گے۔

اسی بارے میں