کیا مودی برطانیہ سے کوہ نور، ٹیپو کی تلوار واپس لا پائیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption کوہ نور اب ملکۂ برطانیہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔ یہ کبھی تخت طاؤس کی زینت ہوا کرتا تھا

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی برطانیہ کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں اور دورے سے قبل اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ وہ اس دوران کن مسائل پر بات کریں گے۔

برطانیہ کے مختلف عجائب گھروں میں موجود قیمتی نوادرات اور جواہرات کو بھارت واپس لانے کا معاملہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

بھارت نژاد برطانوی ایم پی کیتھ واز سمیت کئی گروپ گذشتہ کئی برسوں سے اس مسئلے کو اٹھاتے رہے ہیں اور ان لوگوں نے مودی کے دورے کے دوران اسے پیش کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

بی بی سی کے نتن شریواستو کے مطابق واپس لانے کی مہم میں شامل اہم ترین نوادرات اس طرح ہیں:

کوہ نور

وسطی ریاست آندھرا پردیش کی ایک کان سے برآمد کوہ نور ہیرا پہلے 720 کیرٹ کا ہوا کرتا تھا۔ پہلے پہل بادشاہ علاء الدین خلجی کے جنرل ملک کافور نے اسے حاصل کیا تھا اور یہ برسوں تک خلجی خاندان کے خزانے میں رہا۔

مغل حکمران بابر کے پاس پہنچنے کے بعد اس نے مغلوں کے ساتھ کئی سو سال گزارے۔ شاہ جہاں کے تخت طاؤس پر اپنی چمک پھیلانے کے بعد کوہ نور ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ٹیپو سلطان کو اینگلو میسور جنگ میں شکست ہوئی تھی

سب کے بعد ایک تحفے کے طور پر کوہ نور برطانیہ کی ملکہ کو سونپا گیا اور اس کے بعد سے یہ ملکہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔

بہر حال ایک زمانے میں دنیا کے سب سے بڑے ہیروں میں شمار ہونے والا کوہ نور اب صرف 105 کیرٹ کا ہی رہ گیا ہے۔

ٹیپو کی تلوار اور انگوٹھی

لندن کے برٹش میوزیئم میں میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کی تمام چیزیں سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ خصوصی کاریگری والی ٹیپو سلطان کی ایک وزنی تلوار ان میں سے ایک ہے۔

اسی کے اگلے خانے میں ٹیپو سلطان کی ایک خوبصورت سی انگوٹھی رکھی ہوئی ہے جسے سري رنگا پٹنم میں ہونے والی جنگ میں ٹیپو سلطان کی موت کے بعد برطانوی فوج انگلستان لے گئی تھی۔

برمنگھم یا سلطان گنج بودھ مجسمہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دنیا بھر میں مہاتما بودھ کے مجسمے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں

تقریباً 500 کلوگرام وزنی سلطان گنج بودھ کی قد آدم مورتی برطانیہ کے برمنگھم شہر کے عجائب گھر کی زینت ہے۔

تقریباً 1500 سال پرانا مہاتما بودھ کا یہ مجسمہ پیتل کا ہے جو سنہ 1861 میں بہار کے بھاگلپور ضلعے سلطان گنج علاقے میں ریل کی پٹرياں بچھاتے ہوئے ایک انگریز افسر کو ملا تھا۔

امراوتی سنگ مرمر کی نقاشياں

تاریخ دانوں کے مطابق تقریباً 2000 سال پہلے نقاشی کے ان نمونوں سے جنوب مشرقی بھارت کے ایک معروف سٹوپا کا دروازہ سجا رہتا تھا۔

سنہ 1845 میں ایک برطانوی افسر سر والٹر ایلیٹ کی نگرانی میں امراوتی کے سٹوپا کی کھدائی کا کام شروع ہوا اور سنہ 1880 کی دہائی میں تقریباً 120 نقاشی کے نمونے برٹش میوزیئم پہنچے۔

سرسوتی کا مجسمہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹیپو سلطان کی انگوٹھی بھی ان نوادرات میں شامل ہے

لندن کے برٹش میوزیئم میں جب بھارتی سیاح پہنچتے ہیں تو سب کی نگاہیں سرسوتی کے مجسمے کو تلاش کرتی ہوتی ہیں۔

ہندو اور جین مذاہب میں علم، موسیقی اور ودیا کی دیوی تسلیم کی جانے والی سرسوتی کی مورتی کا تعلق وسطی بھارت کے مشہور بھوج شالا مندروں سے بتایا جاتا رہا ہے۔

تاریخ دانوں کے مطابق سنہ 1886 میں اس مورتی کو برٹش میوزیئم نے اپنے تحفظ میں لے لیا تھا۔

اسی بارے میں