بہار میں شکست: ’ایک سال سے پارٹی کو کمزور بنا دیا گیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بی جے پی کے سینیئر رہنما ایک عرصے سے پس پشت نظر آ رہے ہیں

بھارتی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں ایک قسم ہلچل پیدا کردی ہے اور کئی رہنما اب وزیر اعظم نریندر مودی پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔

بی جے پی کے چار سینئر لیڈروں نے اعلی قیادت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے دہلی کی شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بہار میں بی جے پی کی شکست کے بعد منگل اور بدھ کی درمیانی شب جاری کیے جانے والے مشترکہ بیان میں ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ شکست کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ ایک سال سے پارٹی کو کمزور بنا دیا گیا ہے۔

یہ بیان سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، یشونت سنہا اور شانتا کمار کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اداکار شتروگھن سنہا کو باغیوں میں تصور کیا جا رہا ہے

ان لیڈروں نے بہار میں ہونے والی شکست کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پارٹی کو مٹھی بھر لوگوں کے آگے جھکنے پر مجبور کیا گیا اور اس کے اتفاق رائے کے کردار کو برباد کر دیا گیا۔‘

بیان میں ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ تجزیہ اور جانچ وہ لوگ نہیں کر سکتے جو خود بہار کی انتخابی مہم کا حصہ تھے اور جو اس کے ذمہ دار تھے۔

ایک نیوز ایجنسی نے یشونت سنہا کے حوالے سے کہا ہے کہ ’بہار میں شکست کے لیے کسی کو ذمہ دار نہ ٹھہرانا ایسا ہے جیسے کہ اس کے لیے کوئی ذمہ دار ہی نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک عرصے سے بی جے پی میں امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جو لوگ پارٹی کی جیت کی صورت میں کریڈٹ لیتے ہیں وہ شرمناک شکست کی ذمہ داری لینے سے پیچھے کیوں ہٹ رہے ہیں۔

ان کے علاوہ بہار کے ایک سینیئر رہنما بھولا سنگھ نے بھی براہ راست اعلی قیادت پر سوال کیے اور مختلف ٹی وی چینل پر وہ اپنی بات رکھ رہے ہیں۔

ان انتخابات میں بہار کے بعض مقامی رہنما ناراض نظر آئے جبکہ سینیئر رہنما ایک عرصے سے پس پشت نظر آ رہے ہیں اور پارٹی چند رہنما بطور خاص وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے معتمد خاص اور پارٹی صدر امت شاہ کے گرد گھوم رہی ہے۔

اسی بارے میں