’دیوالی کے رنگ پھیکے پڑ گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دیوالی روایتی طور پر روشنی کا تہوار ہوتا ہے

شمالی بھارت میں ہندوؤں کا سب سے اہم اور معروف تہوار دیوالی سمجھا جاتا ہے لیکن دارالحکومت دہلی سے بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کہتی ہیں کہ گذشتہ دہائی سے خُوشيوں کا یہ موقع اب صرف ایک تجارتی میلہ بن کر پھیکا پڑ گیا ہے۔

بالی وڈ کے سٹار دیوالی کہاں منائیں گے؟

بالی وڈ فنکار دیوالی کیسے مناتے ہیں؟

میرے خاندان میں ہمارے لیے دیوالی روایتی طور پر روشنی کا تہوار ہوتا تھا۔ اس دن ہم اپنے گھر کو دیوں سے سجاتے تھے اور ’دولت کی دیوی‘ لکشمی سے امیر ہونے کی دعائیں مانگتے تھے۔

جب ہم چھوٹے تھے تو ہاتھی کے سر والے معروف دیوتا گنیش سے دعا مانگتے تھے کہ وہ ہمیں امتحانوں میں پاس کروائے۔

ہم لوگ نئے کپڑے پہنتے اور سارا دن مٹھائیاں کھاتے تھے جو یا تو مارکیٹ سے خریدی جاتی تھیں یا میری والدہ بناتی تھیں۔

ہمارے پاس کوئی پٹاخے نہیں ہوتے تھے۔ بچپن میں جب بھی میں اپنے والد سے پٹاخے خریدنے کے لیے پیسے مانگتی تھی تو وہ کہتے تھے ’اس سے بہتر ہے کہ تم پیسے جلا دو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دہلی میں مسلسل گاڑیوں اور پٹاخوں کے شور کی آوازیں گونجتی ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لوگوں کو سونا اور ہیرے خریدنے کی ترغیب دی جاتی ہے

میں نے پہلی دفعہ پٹاخے خود ایک ماں بننے کے بعد خریدے لیکن میرے ایک سالہ بیٹے کو ان کے شور سے اتنا خوف آیا کہ مجھے اس کے ساتھ گھر میں چھپنا پڑا۔ اس لیے پٹاخے چلانے کا وہ میرا پہلا اور آخری دن تھا۔

دہلی میں آج کل دیوالی میرے بچپن کے دنوں والی دیوالی نہیں رہی۔ حالیہ برسوں میں یہ ایک خوشی کے موقع کے بجائے صرف ایک تجارتی دن بن کر رہ گیا ہے۔

اس دن شہر میں بس مسلسل گاڑیوں اور پٹاخوں کے شور کی آوازیں گونجتی ہیں۔ دہلی میں پہلے سے موجود آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس سے خارج دھویں سے شہریوں کے پھیپھڑے مزید متاثر ہوتے ہیں۔ ان افسوس ناک حالات سے دہلی کے شہری بہت پریشان ہیں۔

گذشتہ چند برسوں میں لوگوں کو پٹاخوں اور آتش بازی سے باز رکھنے کے لیے کئی مہمات چلائی گئیں لیکن ظاہر ہے کہ وہ ناکام رہی ہیں۔

دلی ہائی کورٹ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ’پٹاخے دھماکہ خیز مواد کے برابر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیوالی کے دن لوگ ’دولت کی دیوی‘ لکشمی سے دعا مانگتے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ chirantana
Image caption بھارت کو ’دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے واقعات‘ پیش آنے کا اول ملک کہلایا جتا ہے

اس کے علاوہ تین بچوں کے والدین نے سپریم کورٹ سے پٹاخوں پر پابندی عائد کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

سپریم کورٹ نے اس اپیل کو مسترد کیا ہے لیکن ججز نے حکومت سے کہا ہے کہ اُسے ’پٹاخوں کے برے اثرات اور خارج ہونے والی آلودگی کے بارے میں‘ لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے مہم چلانی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے رات 10 بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک پٹاخے چلانا ممنوع قرار دیا ہے۔

کیا یہ واقعی ایسا ہوگا؟ مجھے نہیں لگتا، اور یہ میں اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ جنوبی دہلی میں میرے اپنے محلے میں کئی دنوں تک آتش بازی رات کے 10 بجے کے بعد بھی ہوتی رہتی ہے۔

لیکن دہلی میں دیوالی کی آمد کا پتا دینے والی بیشمار چیزوں میں سب سے زیادہ بری چیز وہ شاپنگ کا جنون ہے جو دیوالی سے کچھ ہفتے قبل پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

ہر سال دیوالی سے کچھ ہفتے قبل اخبارات بھی نئی اور چمکدار چیـزوں کے اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان اشتہارات میں لوگوں کو نئے اور زیادہ بڑے ٹی وی سیٹ لینے کی لیے ترغیب دی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک ہے

بلکہ آپ کو اپنی پرانی واشنگ مشین بھی بدلنے کو کہا جاتا ہے جو بالکل ٹھیک ٹھاک کام کرتی ہے۔

آپ کو ایسے آلات اور گھر کی چیزیں لینے کی ترغیب دی جاتی ہے جن کی آپ کو نہ تو ضرورت ہے اور نہ گھر میں جگہ۔

چونکہ دیوالی کے دن ہمیں اپنے رشتہ داروں پر مہربان بھی ہونے کا کہا جاتا ہے تو انھیں خشک پھل، چاکلیٹس اور تحفوں کی ضرورت سے زیادہ بڑی ٹوکریاں بھی دینا نہ بھولیں۔

مٹھائی کے وہ لاکھوں ڈبے نہ بھولیں جن سے چینی اور گھی سے ٹپک رہا ہوتا ہے اور ایسا باوجود ہوتا ہے کہ بھارت ’ذیابیطس اور ہائپر ٹینشن کا گڑھ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

دیوالی کے جشن کے دوران جب ہماری دعا ختم ہوا کرتی تھی تو میری والدہ ہمارے گھر میں ایک راستہ بناتی تھیں تاکہ دولت کی دیوی اس راستے پر چل کر گھر کے اندر آسکے۔

لیکن دہلی کے شور اور آلودگی کو دیکھ کر مجھے نہیں لگتا ہے کہ لکشمی دیوی اس شہر کا رخ کرنا چاہیں گی۔

اور اگر وہ کرتی بھی ہیں تو پھر ٹریفک جام میں ہی پھنسی ہوئی ملیں گی۔

اسی بارے میں