کیا مودی کے خلاف بغاوت ہو رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ گجرات سے تعلق رکھنے والے مودی اور امت شاہ دونوں نے جماعت پر قبضہ کر لیا ہے

امریکہ کے بانیوں میں سے ایک تھامس جیفرسن نے ایک بار کہا تھا کہ ’چھوٹی موٹی بغاوتیں ہونا ایک اچھی بات ہے اور سیاسی دنیا میں اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ طبعی دنیا میں طوفان۔‘

دہلی اور بہار میں نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کی دو لگاتار اور شرمناک ناکامیوں کے بعد کئی مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے اطمینان کو جھنجھوڑنے کے لیے کسی چھوٹی موٹی بغاوت کی ضرورت ہے۔

’ایک سال سے پارٹی کو کمزور بنا دیا گیا ہے‘

’بی جے پی ہاری تو پاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے‘

منگل کی شام سابق نائب وزیرِ اعظم ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں چار پارٹی رہنماؤں نے بیان جاری کیا جو صاف صاف وزیرِ اعظم مودی اور بی جے پی کے سربراہ امت شاہ کے خلاف تھا۔

بہار میں شکست کے بعد جاری بیان میں انھوں نے انتخابی مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس شکست کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ ایک برس سے پارٹی کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ ‘

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پارٹی کو مٹھی بھر لوگوں کے آگے جھکنے پر مجبور کیا گیا اور اس کے اتفاق رائے کے کردار کو برباد کر دیا گیا۔‘

یہ سٹرٹیجک طور پر کافی نپا تلا ضرر رساں اقدام معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حکومت نے ہندوؤں کے روشنی کے تہوار دیوالی کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے 15 مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ضابطوں میں نرمی کی ہے۔

یہ ایسے وقت میں بھی ہوا جب نریندر مودی برطانیہ کے تین روزہ دورے پر جانے کو تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ وزیرِ اعظم کو شرمندہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اکنامک ٹائمز نے نریندر مودی کی سوانح عمری لکھنے والے نلینجن مکھوپادھیائے کے بیان کی شہ سرخی لگائی کہ پارٹی کے بڑوں کی یہ بغاوت ایسے ہے کہ ’بوڑھے خول سے نکل آئے۔‘ مکھوپادھیائے بی جی پی کے صدر اور مودی کے قریبی مشیر ہیں اور امکان ہے کہ امت شاہ جنوری میں پھر سے پارٹی کے صدر منتخب ہو جائیں گے۔

Image caption ایڈوانی سمیت کئی رہنماؤں کو پارٹی میں بھی کنارہ دکھا دیا گیا ہے

امت شاہ ایک سنگ دل منصوبہ ساز ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گذشتہ برس کے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی جیت میں ان کا اہم کردار تھا۔ 50 برس کی عمر میں وہ ہندو قوم پرست جماعت کے سب سے کم عمر صدر بھی ہیں۔

وہ ایک متنازع سیاستدان بھی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2005 میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل کی اجازت دی تھی۔ وہ اس وقت گجرات کے وزیرِ داخلہ تھے۔ انھوں نے اس الزام کے تحت تین ماہ جیل میں گزارے اور ضمانت پر رہا ہوئے۔ وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ گجرات سے تعلق رکھنے والے مودی اور امت شاہ دونوں نے جماعت پر قبضہ کر لیا ہے اور کبھی آزاد، اجتماعی جمہوری جماعت تھی اور اب یہ دو اسے اپنی جاگیر کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔

یہ جوڑی کامیابی سے پرانے رہنماؤں کو پرے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

ایڈوانی جو اس جماعت کے تنظیم سازوں میں شامل تھے انھیں گذشتہ برس پارٹی کے پارلیمانی بورڈ سے الگ کر دیا گیا۔ انھیں سابق وزیر مرلی منوہر جوشی اور سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت ایک نئی رہنما کمیٹی ’مرگدرشک منڈل‘ میں شامل کر دیا گیا۔

جوشی نے سنہ 1992 میں ہندو انتہا پسندوں کو بابری مسجد کے انہدام پر بھڑکایا تھا اور انھیں ہٹا کر مودی کے لیے جگہ خالی کی گئی۔

منگل کی یہ بغاوت پارٹی کے سب سے زیادہ تجربہ کار رہنماؤں کی جانب سے کی گئی جن کی زندگیوں میں اب خزاں رُت چھا چکی ہے اور انھیں پارٹی میں بھی کنارہ دکھا دیا گیا ہے اور مودی کے حامی تو انھیں سرِ عام ماضی سے لوگ پکارتے ہیں۔

وہ بات پر مشتعل ہیں کہ دو بقول ان کے گجرات سے آنے والے دو افراد نے ان کی پارٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔ وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ وہ اور بی جے پی کے بیشتر رہنما سمجھتے ہیں کہ ان دونوں کا جارحانہ طرز عمل ہے۔

تجزیہ کار شیکھر گپتا کا کہنا ہے کہ ’انھیں نظرانداز کیا گیا، ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا اور انھوں نے بول دیا۔‘

اس بغاوت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پرانے رہنما پھر سے زندہ ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کار اشوک ملک کہتے ہیں’ان چار بڑوں کی اخلاقی قوت کو ضرورت سے زیادہ طاقتور سمجھا جا رہا ہے۔‘

اس اقدام سے وہ صرف مودی کو شرمندہ کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کر سکتے تاوقتیکہ پارٹی کے نوجوان اور مزید اہم رہنما ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ مودی کے سب سے قابلِ اعتبار ساتھی امت شاہ کے معاملے میں ان کی مخالفت ہو گی۔

حالیہ انتخابی شکستوں کے باوجود مودی بی جے پی کے طاقتور ترین رہنما ہیں اور اگر آج بھی عام انتخابات ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ جیت جائیں گے۔

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بغاوت پارٹی میں اصلاح کا باعث بنے گی۔ جن میں ووٹ مانگتے ہوئے کم سے کم لفاظی اور غیر ضروری اعتماد کا اظہار، مقامی رہنماؤں کی رائے اور انھیں اہمیت دینا، اور لین دین کی پرانی سیاسی روش اختیار کرنا شامل ہے۔

کیونکہ بہرحال چھوٹی بغاوتیں ایک طرح کی پوشیدہ رحمت ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں