افغان صدر کا شیعہ ہزارہ افراد کے قاتلوں سے انتقام لینے کا وعدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلاک ہونے والوں میں چار مرد، دو خواتین اور ایک نو سالہ بچی شامل تھی

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کابل میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سات افراد کی ہلاکت کے بعد قاتلوں سے انتقام لینے کا وعدہ کیا ہے۔

بدھ کو افغان صدر اشرف غنی نے قوم سے براہراست خطاب میں کہا کہ اس افسوسناک واقعے کے ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ، طالبان یا کسی اور شدت پسند گروہ پر عائد ہوتی ہے اور حکومت اُن کے خلف زور کارروائی کرے گی۔

صوبہ زابل میں ہزارہ برادری کے 30 افراد اغوا

کابل میں ہزاروں افراد نے صدارتی محل کے باہر شیعہ ہزارہ برادری کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد افغان صدر نے قوم سے خطاب کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس نے منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جس میں سات افراد زخمی ہو گئے۔

صوبہ زابل میں گذشتہ اتوار کو ہزارہ برادری کے سات افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ ان افراد کو اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں سر قلم کر کر دیے گئے تھے۔

زابل میں طالبان کے متحارب گروپوں میں حالیہ دنوں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں تاہم شیعہ ہزارہ افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں چار مرد، دو خواتین اور ایک نو سالہ بچی شامل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

کابل میں بارش کے باوجود مظاہرین نے ہلاک ہونے والے افراد کے تابوت اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے نعری بازی کر رہے تھے کہ ’آج ہمیں مارا ہے کل یہ تمھیں مار دیں گے۔‘

اس کے علاوہ مظاہرین نے ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھی اور اس کے ساتھ’ طالبان مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد ان درجنوں افراد میں شامل تھے جنھیں گذشتہ برس اغوا کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق افغان سکیورٹی حکام نے اس مظاہرے کی براہ راست کوریج کو روک دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

اسی بارے میں