بنگلہ دیش میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی

Image caption ان سزاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی چکے ہیں

بنگلہ دیش میں سپریم کورٹ کی جانب سے جنگی جرائم کے مرتکب دو مجرمان کی سزائے موت برقرار رکھنے کے فیصلے بعد فیس بک سمیت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ایک اہلکار کے مطابق عدالت کے فیصلے کے بعد امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما کو پھانسی

صلاح الدین قادر چوہدری اور علی احسن محمد کو سنہ 1971 کی جنگ میں جنگی جرائم پر پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

صلاح الدین کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہے اور وہ سابق وزیر ہیں جبکہ علی احسن محمد کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔

بنگلہ دیش میں ٹیلی کمیونیکشن کے نگراں ادارے کے حکام کے مطابق فیس بک، فیس بک، فیس بک مسینجر، وائبر اور واٹس ایپ سروسز سمیت سب کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل محبوب عالم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ عدالت کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد اب اگر صدر کی جانب رحم کی اپیل منظور نہیں ہوتی تو دونوں مجرمان کو پھانسی دینے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں سنہ 2010 سے دو مختلف ٹرائبیونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔

ٹرائبیونل کی جانب سے مجرم ٹھہرائے گئے زیادہ تر افراد کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقۂ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

سنہ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ افراد مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان اعداد و شمار کی کوئی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں