بنگلہ دیش میں اطالوی پادری پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ STR
Image caption پادری کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے

شمال مغربی بنگلہ دیش میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک اطالوی پادری پر حملہ کر کے انھیں زخمی کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پادری کی شناخت پیئرو پارلاری نامی ایک ڈاکٹر کے طور پر کی گئی ہے جو عیسائی مشنریوں کے ایک ہسپتال میں کام کرتے تھے۔

بنگلہ دیش میں پبلشر کو قتل کر دیاگیا

بنگلہ دیش کے ماہر تعلیم کو ’جان سے مارنے کی دھمکیاں‘

اطلاعات کے مطابق پادری صبح کو دیناج پور ضلعے میں عبادت کرنے کے بعد ہسپتال کی طرف سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ حملے کا شکار ہو گئے۔

ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

اب تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ گذشتہ دو ماہ میں یہ بنگلہ دیش میں غیر ملکیوں پر ہونے والا تیسرا حملہ ہے۔

ستمبر میں ایک اطالوی امدادی کارکن کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اکتوبر میں ایک جاپانی شہری کو ہلاک کیا گیا تھا۔

ان دونوں حملوں کی ذمہ داری نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ دار مقامی شدت پسند ہیں۔

خبروں کی ویب سائٹ بی ڈی نیوز 24 ڈاٹ کام کے مطابق مسٹر پارلاری 78 سالہ ڈاکٹر ہیں جو بنگلہ دیش میں 25 سال سے کام کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں موجود غیر ملکیوں پر عام طور پر حملے نہیں کیے جاتے لیکن حال ہی میں وہاں اسلامی تشدد بہت بڑھا ہے۔

انتہا پسندوں نے سیکیولر مصنفین پر حملوں کے کڑی کے طور پر ایک امریکی شہری سمیت چار بلاگروں کو چاقوؤں سے وار کر قتل کیا ہے۔

اسی بارے میں