جب بارش نے چنّئی کو مفلوج کر دیا

Image caption بارش کی وجہ سے سکول، کالجز بند کر دیے گئے اور 22 نومبر تک عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔ شہر کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ایک ہفتے تک ہونے والی مسلسل بارشوں سے تقریباً 71 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سیلاب میں اب بھی بہت سے پھنسے لوگوں کی امداد کے لیے فوج اور فضائیہ کو تعینات کیا گیا ہے۔

ان بارشوں سے سب سے زیادہ ریاستی دارالحکومت چینئی متاثر ہوا جہاں اب زندگی بتدریج معمول پر آرہی ہے۔ بی بی سی کی تمل سروس کے کے مرلی دھرن نے بتایا ں کہ بارش رک گئی ہے لیکن ہفتے بھر جاری رہنے والی بارش نے شہر کی زندگی کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔

چونکہ چینّئی میں زبردست گرمی کے سبب فضا مرطوب تھی اس لیے گذشتہ سنیچر کو جب بارش شروع ہوئی تو لوگوں کو بڑا سکون ملا اور لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لیکن جب یہ بارش اتوار کے روز بھی بند نہیں ہوئی تو لوگوں کے ہوش اڑ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ imran qureshi
Image caption فوج، بحریہ اور فضائیہ نے امدادی کاموں میں اہم کردار ادا کیا جنہوں نے کئی مقامات پر کشتیوں کا استمعال کرکے لوگوں کو بچایا

حالات تب اور خراب ہوگئے جب سیلاب سے بچنے کے لیے پانی کے ذخائر کے لیے مخصوص بند کھول دیے گئے۔ ایسا اس وقت کیا گيا جب بارش کے سبب شہر کے مضافات پانی سے تقریباً بھر چکے تھے۔

بند کھولے جانے سے سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہو گئیں اور زیر زمین پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے راستے پانی سے بھر گئے۔ نتیجتاً سکول، کالجز بند کر دیے گئے اور 22 نومبر تک عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔ شہر کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

شہر کے بیشتر علاقوں میں مکانات کی نچلی منزل تک پانی بھر گیا۔ ویلاچیری کے علاقے میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ انھوں نے اس سے قبل کبھی اس طرح کی ڈراؤنی صورت حال کا سامنا نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ imran qureshi
Image caption شہر کے بیشتر علاقوں میں مکانات کی نچلی منزل تک پانی بھر گیا۔ ویلاچیری کے علاقے میں رہنے والی ایک خاتون بتایا کہ انہوں نے اس سے قبل کبھی اس طرح کی ڈراؤنی صورت حال کا سامنا نہیں کیا

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ہم ایک ڈوپلیکس مکان میں رہتے ہیں اور گراؤنڈ فلور تو ڈوب رہا تھا، فرنیچر پانی میں تیر رہا تھا۔ ہم نے زندگی میں اس سے پہلے اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہیں کیا تھا۔‘

چینئی کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ اس وقت اور ہوگیا جب چیمبارام بکّم جھیل کا اضافی پانی نالے کی طرح بہنے والی آلودہ اور گندے دریائے ادیار میں چھوڑ دیا گیا جس سے اس میں طغیانی آگئی۔

اس علاقے کی رہائشی سنگیتا نے بتایا ’دریائے ادیار کا پانی باہر پھیلنے سے مناپکّم علاقے میں زبردست بدبو پھیل گئي۔ اب جب تک حالات معمول پر نہیں آتے اس وقت تک ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔‘

پانی بھرنے کے سبب کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی بھی منقطع کرنی پڑی تھی لیکن اب، ان علاقوں کو چھوڑ کر جہاں اب ابھی پانی جمع ہے، بیشتر علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایسے ماحول میں جب شہر سیلاب کی صورت حال سے گزر رہا تھا مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے لیے ریاستی وزیراعلی جے للتا پر نکتہ چینی کی

اور ایسے ماحول میں جب شہر سیلاب کی صورت حال سے گزر رہا تھا مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے لیے ریاستی وزیراعلٰی جے للتا پر نکتہ چینی کی۔

جو ٹی وی چینل حزب اختلاف کے حامی ہیں ان کا کوریج تو ڈراؤنا تھا ہی لیکن حکومت کے حامی ٹی وی چینل صرف امدادی کارروائیوں پر ہی توجہ دے رہے تھے اور وزیراعلٰی کی ستائش میں پیش پیش تھے۔

اس ماحول میں فوج، بحریہ اور فضائیہ نے امدادی کاموں میں اہم کردار ادا کیا جنہوں نے کئی مقامات پر کشتیوں کا استمعال کرکے لوگوں کو بچایا۔ فضائیہ نے بہت سے پھنسے ہوئے لوگوں کو مصیبت سے نکالا۔

اب جبکہ بارش پوری طرح سے رک چکی ہے تو شہرکی زندگی معمول پر آنے لگی ہے۔ لیکن شہر والوں کے لیے سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ کچھ روز تک بارش بالکل نہ ہونے کی پیش گوئي کی ہے۔

اسی بارے میں