اصلی کے بعد اب نقلی گائے پر بھی تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروع ہو رہے ہیں کیونکہ گائے ہندو مت میں مقدس مقام رکھتی ہے: مظاہرین

بھارت کی ریاست راجھستان میں پولیس نے پلاسٹک سے بنائی گئی گائے کی شبیہہ کو غبارے کے ساتھ ہوا میں معلق کرنے پر فنکاروں کو حراست میں لے کر ’گائے‘ کو اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔

اتوار کو راجھستان کے شہر جے پور میں پولیس نے جے پور آرٹ سمٹ میں اُس وقت چھاپا مارا، جب وہاں ایک نمائش جاری تھی۔

اس نمائش میں پلاسٹک سے بنی گائے میں ہیلیم گیس بھر کر اُسے فضا میں معلق کیا گیا تھا۔

راجھستان کی پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین کے احتجاج کے بعد وہ نمائش میں آئے ہیں۔ مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’کئی افراد ہمارے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ بعض آرٹسٹوں نے گائے کو غلط انداز میں دکھایا ہے۔‘

پولیس کا کہنا کے مظاہرین کے مطابق ایک بڑی سی گائے ہوا میں معلق ہے جس سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروع ہو رہے ہیں کیونکہ گائے ہندو مت میں مقدس مقام رکھتی ہے۔

مظاہرین کے احتجاج کے بعد پولیس نے نمائش میں آ کر گائے کی شکل کے غبارے کو نیچے اُتارا۔ جس کے بعد ہندو مظاہرین نے گائے کی پوجا کی اور اُس پر پھول چڑھائے۔

پولیس نے نمائش میں شریک دو فنکاروں انیش آلوہوالیا اور چیتن اوپادھئے کو کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔

ایک فنکار سدھارت کاروال کا کہنا ہے کہ گائے کی شبیہہ کے اس غبارے کو انھوں نے’ مقدس گائے‘ کا نام دیا تھا۔ اس کے ذریعے وہ بھارت میں گائے کے آبادی میں کمی کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں جو کہ پلاسٹک کھاتی ہیں اور جو اس کے گلے میں پھنس جاتا ہے جس کی وجہ سے اکثر اس کی موت بھی ہو جاتی ہے۔

فنکاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی بارے میں