ایرانی نوجوان حقیقت میں دکھائی کیسے دیتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ kartmelichallenge

ایرانی نوجوانوں نے انسٹاگرام پر اپنی تصاویر ان تصاویر کے ساتھ شائع کی ہیں جو ان کے قومی شناختی کارڈ پر موجود ہیں صرف یہ بتانے کے لیے کہ حقیقت میں وہ کیسے دکھتے ہیں۔

انسٹا گرام پر دو مقبول صفحات ایرانیوں سے ان تصاویر کو پوسٹ کرنے کو کہہ رہے ہیں۔

ایرانی مرد خواتین کے مساوی حقوق کے لیے سرگرم

جس کے جواب میں بہت سے ایرانیوں نے ’ کرتےمیلی چیلنج‘ (قومی شناختی کارڈ چیلنج) نامی پیج پر اپنی تصاویر ارسال کی ہیں۔ شناختی کارڈ کی بلیک اینڈ وائٹ، جذبات سے عاری تصویر کے بالکل ساتھ ایک رنگین، خوش باش، سٹائلش تصویر لگائی جارہی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ دراصل کیسے لگتے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل شروع کیے جانے والے اس چیلنج میں اب تک سو تصاویر اپ لوڈ کی جا چکی ہیں۔ ایران وہ ملک ہے جہاں عوامی رابطوں کی ویب سائٹس پر ذاتی تصاویر کو پوسٹ کرنا حکام کی نظر میں مجرمانہ عمل ہے۔

انسٹاگرام پر ہی’ڈونٹ جج چیلنج ٹی ایم‘ نامی ایک دوسرے صفحے پر اب تک 160 تصاویر پوسٹ کی جاچکی ہیں لیکن ان سے کئی گنا زیادہ افراد اس سے متاثر نظر آتے ہیں اور اب تک ایک لاکھ 20 ہزار لوگ اس صفحے پر فالو کا بٹن دبا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ kartmelichallenge

ایران میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے والے حکام نے اپنی ویب سائٹ پر تصاویر کے لیے مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں:

’مردوں کے لیے: ٹوپی، چشمہ، ٹائی، زیور، بالوں کا سٹائلش انداز، اور بڑھی ہوئی قلموں کی ممانعت ہے۔ پیشانی اور کان واضح نظر آنے چاہیے، لباس کا رنگ تصویر کے پس منظر سے نہیں ملنا چاہیے۔‘

’خواتین کے لیے: گہرے رنگ کے سادہ کپڑے کا مکمل حجاب لینا ضروری ہے جس سے چہرے کی گولائی واضح ہو، اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے میک اپ اور زیورات پہننے کی ممانعت ہے۔‘

انسٹاگرام پر پوسٹ کی جانے والی ان تصاویر پر آنے والے زیادہ تر تبصرے تصویر میں موجود لوگوں کی شکل و صورت پر آرہے ہیں۔ جن میں بہت سے تبصروں میں ان لوگوں کو طنز کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے جنھوں نے اپنے چہرے کی کاسمیٹک سرجری کروائی ہے۔ ایران میں کاسمیٹک سرجری بہت مقبول ہے۔

ایک شخص نے لکھا کہ ’اس چیلنج کا نام ممکنہ طور پر پلاسٹک سرجری سے پہلے اور بعد ہونا چاہیے تھا۔‘

ایک فیس بک صارف نے مشورہ دیا ہے کہ ’ کسی بھی لڑکی کو شادی کا پیغام دینے سے پہلے اس سے شناختی کارڈ کی کاپی بھیجنے کی درخواست کی جانی چاہیے تاکہ آپ کو پھولوں اور مٹھائیوں پراتنی رقم ضائع کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ kartmelichallenge

کرتےمیلی چیلنج کی منتظم نے آغاز میں ایک بالکل مختلف مہم شروع کرنے کی کوشش کی تھی جس میں انھوں نے خواتین سے حجاب اور اس کے بغیر تصاویر شائع کرنے کا کہا تھا۔ یہ مہم پھیلنے والی ’مائی سٹیلدی فریڈم کیمپین‘ سے ملتی جلتی تحریک تھی جس میں خواتین کے حجاب اتارنے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

تاہم بعد میں انھوں نے ایک نئے خیال پر توجہ موکوز کردی۔

ایران وائر نامی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے شناختی کارڈ کی تصویر میں خوش نظر آئیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ مہم اتنی دلچسپ ہوگئی ہے۔‘

ایران میں سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد خواتین پر ایک مخصوص قسم کا لباس پہننے کی پابندی ہے۔

فیس بک پر ایک صارف نے اس چیلنج کو ایک مظاہرے سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے ’عوام بمقابلہ ذاتی شخصیت کا نام دیا ہے۔‘

ایک اور صارف نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے قومی شناختی کارڈ کو آن لائن شیئر کرنے کا سوچا ہی نہیں ہے۔

اسی بارے میں