قندوز: ’طالبان کے ساتھ ناشتہ۔۔۔ اور پھر لڑائی‘

Image caption سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان کے کسی اہم شہر پر شدت پسندوں نے قبضہ کیا تھا

رواں سال ستمبر میں افغانستان کے شہر قندوز پر مختصر عرصے کے لیے طالبان کے قبضے نے نہ صرف وہاں کے شہریوں بلکہ افغان حکومت اور ان کے مغربی اتحادیوں کو بھی شدید ذہنی دھچکہ پہنچایا ہے۔

سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان کے کسی صوبائی دارالحکومت پر شدت پسندوں نے قبضہ کیا تھا۔افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار سیّد انور نے حال ہی میں قندوز کا دورہ کیا ہے اور اکتوبر میں حکومتی افوج کی جانب سے طالبان کو شہر سے باہر دھکیلنے کے بعد وہاں کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔

طالبان کے ساتھ ناشتہ۔۔۔ اور پھر لڑائی

قندوز کے سینکڑوں شہریوں میں سے ایک عبدالحافظ بھی تھے جن کا رواں سال 28 ستمبر، لڑائی کی صبح، طالبان جنگجووں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تھا۔

حافظ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’میں نے صبح کی نماز ادا کی اور طلوع آفتاب کے وقت باہر نکلا تاکہ اپنے پڑوسیوں سے گذشتہ رات کی لڑائی کے بارے میں کچھ جان سکوں۔

’سڑک پر کھڑے ٹرک پہ مجھے سادہ کپڑوں میں مسلح افراد نظر آئے، میں سمجھا کہ وہ کسی مقامی سردار کے محافظ ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ طالبان جنگجو تھے۔‘

حافظ کے لیے یہ بہت بڑا دھچکہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغان طالبان سکیورٹی فورسز کو پیچھے دھکیلتے ہوئے قندوز شہر میں داخل ہوگئے تھے

حافظ بتاتے ہیں ’مسجد کے امام نے مجھے بلایا اور بتایا کہ طالبان نے شہر کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ ناشتے کا تقاضا کر رہے ہیں۔

’پھر میں نے اپنے ایک ہمسائے کے ساتھ مل کے عیدالضحٰی کی قربانی کےجانور کا گوشت اُس صبح مسجد میں موجود طالبان کے لیے تیار کیا تھا۔‘

دنیا بھر کے ڈاکٹروں پر مشتمل بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے ہسپتال پر رواں سال تین اکتوبر کا امریکی فضائی حملہ افغانستان میں جاری طویل لڑائی کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔ بمباری کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں وہاں علاج کے لیے داخل مریض اور ہسپتال کا عملہ شامل تھے۔ ان میں سے کئی اس جہنم جیسی آگ میں جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔

ایم ایس ایف کا کہنا تھا کہ یہ حملہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی تھا جبکہ اب امریکہ نے اپنی اس ’افسوس ناک‘ غلطی کی معافی مانگ لی ہے۔

حملے کی رات ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’ان لمحات کی تفصیلات بتانا بہت مشکل ہے جب میرے ساتھی رو رہے تھے اور مر رہے تھے۔‘ واقعہ زیر تفتیش ہونے کے باعث انھوں نے اس موضوع پر زیادہ گفتگو نہیں کی۔

لیکن عمارت اور اس کی حالت اپنی کہانی خود سنا رہی تھی۔

Image caption قندوز کی جیل سے بھی بڑی تعداد میں قیدی فرار ہوگئے

خالی قید خانہ۔۔۔

طالبان حملے کے بعد جب ہم قندوز پہنچے تو شہر آہستہ آہستہ واپس اپنے معمول پر آرہا تھا، تاہم لڑائی کے آثار اب بھی جگہ جگہ دیکھے جا سکتے تھے۔

شہر میں داخل ہونے کے بعد جنگجوؤں کے اہم اہداف میں قندوز جیل بھی شامل تھی۔ اس کی دیواروں اور دروازوں پر اب بھی جا بجا گولیوں اور راکٹوں کے حملے کے نشانات واضح تھے۔

طالبان جنگجوؤں نے چھ سو سے زائد قیدیوں کو رہا کردیا تھا جن میں تقریباً 150 باغی جنگجو بھی شامل تھے۔

جس وقت ہم نے جیل کا دورہ کی وہ تقریباً خالی تھی۔ جبکہ توقعات کے برخلاف ہمیں معلوم ہوا کہ 12 گمشدہ قیدی ایسے بھی ہیں جو شہر پر دوبارہ حکومتی قبضے کے بعد واپس لوٹ آئے ہیں۔

تجارتی خسارہ

قندوز کی سڑکوں پر چھوٹے کاروبار اور ٹریفک دوبارہ رواں ہوگئی ہے تاہم صوبے میں مسلسل موجود عدم استحکام کی فضا نے کاروبار کو بری طرح متاثر کیاہے۔

Image caption افغان تاجک سرحد پر کھڑے ٹرک

ہم نے افغانستان اور تاجکستان کے درمیان موجود شیر خان بارڈر کا ایک مختصر دورہ کیا۔

جنوبی اور وسطیٰ ایشیا کے درمیان اس اہم رابطہ راستے کے ساتھ پھیلے گرد آلود میدان میں درجنوں ٹرک انتظار میں کھڑے تھے۔

حکام نے بتایا کہ سرمایہ کار یہاں سے چلے گئے ہیں اور ایک سال میں تجارت اور ٹرانزٹ میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔

طالبان کی واپسی کے لیے تیار رہیں؟

افغان فوجیوں اور طالبان کے درمیان قندوز شہر کے نزدیکی علاقوں، گاؤں، اور کئی ضلعوں میں جاری لڑائی کے باعث اس تمام تر صورت حال میں جلد تبدیلی کے امکانات نظر نہیں آتے۔

ہم نے افغان فوجیوں کے ساتھ شہر سے محض سات کلومیٹر کے فاصلے پر اس علاقے کا دورہ کیا جہاں لڑائیاں اب بھی جاری ہیں۔

علاقے کے پولیس کمانڈر نے ہمیں قریبی علاقوں میں چند گھروں پر لہراتے ہوئے طالبان کے جھنڈے دکھائے۔

قندوز کے قائم مقام گورنر حمداللہ دانشی سے ملاقات کے دوران جب میں نے علاقے میں طالبان کی موجودگی کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم علاقے میں (طالبان کی) صفائی کا آغاز کر رہے ہیں۔ لیکن عام شہریوں کی زندگیوں کی حفاظتکی خاطرہم رفتار پر صحیح اہداف کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘

Image caption قندوز کے کئی شہری اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس موسم سرما میں طالبان کو پیچھے دھکیل دینے کی ضرورت ہے

انھوں نے ساتھ ہی یہ تجویز بھی پیش کی کہ حکومت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سیکیورٹی فورسسز کو متحارب گروہوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ قبل اس کے کہ وہ دوبارہ منظم طریقے سے لڑائی کی تیاری کرلیں ہمیں ان کی محفوظ پناہ گاہوں کن نشانہ بنانے کی ضرورت ہے۔‘

قندوز کے کئی شہری اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس موسم سرما میں طالبان کو پیچھے دھکیل دینے کی ضرورت ہے۔

ہمیں بتاگیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے موسم بہار تک طالبان جنگجو ایک بار پھر بھرپور حملہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں