بنگلور کا ادبی میلہ آغاز سے پہلے ہی تنازعے کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ VIKRAM SAMPATH FACEBOOK
Image caption ادیبوں کے ذریعے ایوارڈ واپس کرنے اور ٹیپو سلطان کے بارے میں تاریخ داں وکرم سمپت کے خیالات کی وجہ سے بعض ادیبوں نے بنگلور ادبی میلے سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا تھا

بھارت میں ’عدم روادری‘ پر جاری بحث تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اس کا اثر اب بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں نظر آ رہا ہے۔

بنگلور میں دسمبر کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والے ادبی میلے کے شریک بانی اور ڈائریکٹر وکرم سمپت نے اس تقریب سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ سمپت نے اس تقریب سے علیحدگی اس لیے اختیار کی ہے کہ بعض اہم ادبی شخصیتوں نے ادیبوں کی جانب سے ’بھارت میں عدم روادری میں اضافے‘ کے خلاف ’ایوارڈ واپسی کی مہم‘ پر سمپت کے خیال سے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے لٹریچر فیسٹیول سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

تاریخ داں سمپت نے اس سے قبل اپنے ایک مضمون کے ذریعے ایوارڈ واپسی کی مخالفت کی تھی اور اسی وجہ سے بھارت کے گرانقدر ادبی اعزاز سے سرفراز ملیالم زبان کی ناول نگار سارا جوزف، ان کی بیٹی سنگیتا سری نواسن، کنّڑ زبان کے شاعر عارف راجہ، ناقد او ایل ناگا بھوشن سوامی، مصنف ٹی کے دیانند نے اس فیسٹیول سے علیحدگي کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ یہ خبریں بھی گرم تھیں کہ مزید ادیب اور دانشور بھی اس ادبی میلے کا بائیکاٹ کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ anuragbasavaraj
Image caption بعض سخت گیر ہندو تنظیموں نے میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کی سالگرہ کی مخالفت کی تھی

مصنف اور شاعر عارف راجہ نے کہا کہ ’ایوارڈ واپسی‘ مہم اور ٹیپو سلطان پر سمپت کے خیالات کی وجہ سے وہ کنارہ کش ہوئے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیپو سلطان کے خلاف ایک درخواست پر جن تاریخ دانوں نے دستخط کیے تھے ان میں سمپت بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 18 ویں صدی میں میسور ریاست کے بادشاہ ٹیپو سلطان کی سالگرہ منانے کے حکومتی فیصلے پر کرناٹک میں احتجاج ہوئے تھے۔

اپنے بیان میں سمپت نے کہا: ’یہ تقریب اور اس کے اصول مجھ سے یا کسی بھی شخص سے کہیں بڑے ہیں۔ اگر میری وجہ سے مختلف النوع قسم کے خیالات کو سنا ہی نہ جائے تو یہ شرمناک بات ہوگی۔‘

Image caption بنگلور لٹریچر فیسٹیول پانچ اور چھ دسمبر کو منعقد کیا جا رہا ہے

سمپت نے کہا: ’جس ادارے کو قائم کیا اور پرورش کی اور جسے اب میرے ذاتی خیالات سے جوڑ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، میں نے اس ادارے کے مفاد میں اس تقریب کو منعقد کرنے کی تمام ذمہ داریوں سے علیحدگی کا تکلیف دہ فیصلہ کیا ہے۔‘

اس تقریب کے مشیر روی چندر نے بی بی سی کو بتایا: ’بنگلور ادبی میلہ ہمیشہ غیر جانبدار رہا ہے۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ اسے ذاتی طور پر لیا جا رہا ہے۔ سمپت کے علیحدہ ہو جانے کے بعد ہم ایک بار پھر تمام مصنفین کو مدعو کر رہے ہیں کہ وہ اس تقریب میں حصہ لیں اور اپنے خیالات پیش کریں۔‘

اسی بارے میں