بھارتی قیدیوں کے فرار کے انوکھے طریقے

بھارتی پولیس افسران روزانہ ہزاروں کی تعداد میں جرائم پیشہ افراد کو مختلف عدالتوں اور جیلوں میں لاتے ہیں۔ اُن میں سے زیادہ تر کو سخت حفاظتی انتظامات میں رکھا جاتا ہے لیکن پھر بھی ان میں سے چند قیدی فرار کے جدید طریقے تلاش کر لیتے ہیں۔

شہد کی مکھیاں اور کرسیاں شاید فرار حاصل کرنے کے اوزار کے طور پر بہت زیادہ موزوں نظر نہ آئیں لیکن انھیں حقیر خیال کرنا مہنگا بھی پڑسکتا ہے بالکل اُسی طرح جیسے حال ہی میں بھارت میں کچھ پولیس والوں کو پڑا۔

بی بی سی کے وکاس پانڈے نے اُن چار غیر معمولی طریقوں کی تفصیلات پیش کی ہیں جو بھارتی قیدی فرار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

فرار کی دعوت

گذشتہ ہفتے ممبئی پولیس سٹیشن میں پلاسٹک کی ایک کرسی کے ساتھ ہتھکڑیوں میں جکڑے ایک شخص نے اُسی پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھے اپنی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار کے کسی کام کے سلسلے میں اُٹھ کر کمرے سے باہر جاتے ہی ’کرسی اپنے سر پر رکھی‘ اور یونہی ٹہلتا ہوا تھانے سے باہر چلا گیا۔

انڈین ایکسپریس نامی بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’جب پولیس اہلکاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو وہ ہکا بکا رہ گئے۔‘

اس واقعے کے بعد پولیس افسران نے اعتراف کیا کہ ایک ملزم کو پلاسٹک کی کرسی کے ساتھ ہتھکڑی لگانا یقینی طور پر کوئی اچھا خیال نہیں تھا۔

ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق ’کسی ملزم کو پلاسٹک کی کرسی کے ساتھ ہتھکڑی لگانا اُسے فرار کے لیے دعوت دینے کے مترادف ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Kritish Bhatt

’سٹنگ‘ آپریشن

دہلی کے قریب ایک مضافاتی علاقے گُڑگاؤں کی پولیس کو شہد کی مکھیوں سے نشانہ بنایا گیا۔

چار نومبر کی ایک عام سی صبح پولیس والوں کے لیے اُس وقت مشکل میں ڈھل گئی جب قریبی درخت کی شہد کی مکھیوں کا ایک جُھنڈ فرخ نگر پولیس سٹیشن میں داخل ہو گیا۔

جب تھانے میں موجود پولیس اہلکار شہد کی مکھیوں سے بچاؤ کے لیے میز اور کرسیوں کے نیچے چُھپے اُسی وقت ایک قیدی وہاں سے فرار ہو گیا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ’کسی کو بھی اس بات کی توقع نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Kritish Bhatt

جب قیدی ملاقاتی بن گیا

بنگلور میں اپریل کے مہینے میں ایک قتل کے مجرم نے اپنی حفاظت پر مامور محافظ کو چکمہ دیا۔

اُس نے صرف اپنی کلائی پر عارضی ملاقاتی کی مہر لگائی اور جیل سے بھاگ نکلا۔

پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’قیدیوں کی حفاظت پر مامور محافظوں کی بے ضابطگیاں اور منجو ناتھ (مجرم) کے دعوے کی دوبارہ تصدیق کے سلسلے میں سرگرمی نہ دکھانا اس فرار کی وجہ بنا۔‘

حکام کے مطابق فرار ہونے والے قیدی ’کسی نے کسی طرح وہ مہر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو قیدیوں کی حفاظت پر مامور محافظ مرکزی جیل میں ملاقاتیوں کی آمد پر اُن کی کلائیوں پر لگاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Kritish Bhatt

غسل خانے کی کھڑکی کے ذریعے

اور آخر میں سنہ 2008 میں ممبئی میں ایک قیدی نے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا استعمال کیا اور ایک ہسپتال کے بیت الخلا سے پولیس کی تحویل سے فرار ہو گیا۔

ممبئی کی پولیس نے قیدی کی جانب سے اس بات کی شکایت پر اُسے جیل سے ہسپتال منتقل کیا تھا کہ وہ اپنی ٹانگیں نہیں ہلا سکتا۔

جہاں بالآخر اُس قیدی نے پولیس اہلکاروں کو بیت الخلا لے جانے کا کہا جہاں 30 منٹ کے بعد وہ اپنی نگرانی پر متعین تین پولیس اہلکاروں کے سامنے بیت الخلا سے بھاگ نکلا۔

ایک سینیئر عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے اُس شخص کو صرف ویل چیئر (معذورں کے بیٹھنے کی کرسی) پر ہی دیکھا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہی وجہ ہے کہ جب وہ وہاں سے فرار ہوا تو پولیس اہلکار اُسے شناخت نہیں کر پائے۔