نیپال کی سرحد بند ہونے سے لاکھوں بچوں کی جان کو خطرہ: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کھٹمنڈو میں گذشتہ جمعے کو ہونے والے مظاہرے میں بچوں نے ’سرحدی بندش ختم کرو، تعلیم ہمارا حق ہے، ہم بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے‘ کے نعرے لگائے

اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے تنبیہ کی ہے کہ نیپال میں موسم سرما کے آتے ہی ایندھن، خوراک، ادویات اور ویکسینز کی قلت سے 30 لاکھ سے زائد کم عمر بچوں کو ہلاکت یا بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ نیپال کے جنوبی علاقے میں دو مہینوں سے جاری سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے۔

مہیسی اقلیت نے نیپال اور بھارت کی سرحد کو دو ماہ سے بند کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے خوراک اور ادویات کی کمی ہو گئی ہے۔

کھٹمنڈو میں سکول کے بچوں کا بھارت کے خلاف مظاہرہ

نیپالی پولیس کی سرحد پر فائرنگ سے بھارتی شہری ہلاک

بھارت کی پابندیاں، تیل کی درآمد پر نیپال کا چین سے معاہدہ

مہیسی اقلیت کا کہنا ہے کہ نئے آئین میں ان کو حقوق نہیں دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں گذشتہ دنوں ہزاروں سکول کے بچوں نے رنگ روڈ پر انسانی زنجیر بنا کر مہیسی لسانی اقلیت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

نیپالی حکومت کا کہنا ہے کہ مہیسی اقلیت کی بھارت حمایت کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیپال میں 60 فیصد ادویات بھارت سے آتی ہیں اور اس کے علاوہ تیل، خوراک اور دیگر اشیا بھی بھارت ہی سے نیپال آتی ہیں

تاہم بھارتی حکومت اس الزام کی تردید کرتا ہے اس نے سرحد کو بند کیا ہوا ہے۔ بھارت نے نیپالی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مہیسی اقلیت سے مذاکرات کرے۔

واضح رہے کہ نیپال میں 60 فیصد ادویات بھارت سے آتی ہیں اور اس کے علاوہ تیل، خوراک اور دیگر اشیا بھی بھارت ہی سے نیپال آتی ہیں۔

یونیسیف نے متنبہ کیا ہے کہ نیپال میں ویکسینز اور جان بچانے والی ادویات کا شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بچوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھونی لیک کا کہنا ہے کہ ’میں نے نیپال کے اپنے حالیہ دورے میں دیکھا کہ زلزلہ متاثرین انتہائی بری حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور اب انھیں ایک اور آفت کا سامنا ہے۔شدید سردی، ناکافی خوارک اور سردی سے بچنے کے لیے محفوظ مقام میسر نہ ہونا۔‘

اطلاعات کے مطابق نیپال میں تیل کی کمی کے باعث سکول کے اوقات میں کمی کر دی گئی ہے۔

کھٹمنڈو میں جمعے کو ہونے والے مظاہرے میں بچوں نے ’سرحدی بندش ختم کرو، تعلیم ہمارا حق ہے، ہم بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے‘ کے نعرے لگائے۔

مظاہرے کرنے والے بچوں نے مطالبہ کیا کہ سرحدی بندش فوری طور پر ختم کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مہیسی اقلیت نے نیپال اور بھارت کی سرحد کو دو ماہ سے بند کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے خوراک اور ادویات کی کمی ہو گئی ہے

اسی بارے میں