تمل ناڈو میں بارشوں سے تباہی،’چنّئی ڈوب گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت کے جنوبی شہر چینئی میں گذشتہ دو دنوں سے بارش کے تار ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج، بحریہ اور نیشنل ڈیزاسٹر فورس کی ٹیموں کو طلب کر لیا گيا ہے۔

بارش کی وجہ سے دارالحکومت چنّئی میں سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

شہر کے تعلیمی ادارے اور ایئرپورٹ بند ہے جبکہ ایک درجن سے زیادہ ٹرینیں بھی ٹریک زیرِ آب آنے کی وجہ سے منسوخ کی گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ 100 سال میں چنّئی میں اتنی زیادہ بارش نہیں ہوئی تھی اور آئندہ 48 گھنٹوں تک تمل ناڈو میں مزید تیز بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بعض علاقوں میں گھروں میں بارش کا پانی گھس گیا ہے

خیال رہے کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے ریاست تمل ناڈو میں ہونے والی بارشوں سے کم از کم 188 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چنّئی میں بارش کا سلسلہ دو دن سے جاری ہے جس سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ شہر کے 60 فیصد علاقے کو بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چنّئی کے ایئر پورٹ کو منگل کی شام سے بند کر دیا گیا کیونکہ پانی ایئر فيلڈ تک پہنچ گيا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 400 کے قریب مسافر ہوائی اڈے پر پھنسے ہوئے ہیں۔

چنئی کے ایک رہائشی اشوک مودی نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے 25-30 سال پہلے ایسی بارش دیکھی تھی جب تقریبا ایک ہفتے تک بجلی نہیں آئی تھی۔ پیر کی رات سے ہی بارش ہو رہی ہے اور کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ سب جگہ دو سے تین فٹ پانی بھرا ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گھروں میں کئی کئی فٹ تک پانی بھرا ہوا ہے

اطلاعات کے مطابق حالیہ بارش کی وجہ سے ریاست میں 56 لوگوں کی موت ہو گئی ہے جن میں سے 16 چنّئی سے ہیں۔

تمل ناڈو سے ملحق ریاست پونڈیچری کے ایک رہائشی محمد حفیظ نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ ’ساحل پر ایک ہفتے کے دوران تین بار طوفانی بارش کا سامنا رہا ہے۔ تمام جھیلیں اور پانی کے ذخائر بھر گئے ہیں اور بعض علاقوں میں راستوں اور مکانوں میں بارش کا پانی داخل ہو گیا ہے۔‘

مرکزی حکومت نے بارش سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کے لیے تمل ناڈو حکومت کو 939 کروڑ کی فوری امداد دی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے دو ہزار کروڑ روپے کے امدادی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نقل و حمل کے ذرائع بری طرح متاثر ہوئے ہیں

اسی بارے میں