کیا آپ ’پشٹ‘ نامی نمبو پانی پینا پسند کریں گے؟

Image caption بھارت میں ملبوسات کے ایک نئے برانڈ کے مالک سیف علی خان کا خیال ہے کہ ان کا برانڈ بہت کامیابی حاصل کرے گا

اگر آپ عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کے لیے برانڈ یا نام کی تلاش میں چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں تو بھارتی کھیلوں کے ملبوسات کی ایک کمپنی کے نام پر ضرور غور کریں گے۔

یہ ایک ایسے برانڈ کی مثال ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ جو نام کسی ایک مارکیٹ میں کامیاب ہوتا ہے وہ کسی دوسری مارکیٹ میں بری طرح ناکام ہو سکتا ہے۔

بھارتیوں اور برطانویوں کی پانچ پسندیدہ چیزیں

کیا مودی برطانیہ سے کوہ نور، ٹیپو کی تلوار واپس لا پائیں گے؟

مصنوعات سے وابستہ برانڈز اپنی اقدار کی عکاسی اچھی طرح کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے بڑی کمپنیاں اپنی مصنوعات کی مناسب پہچان ڈھونڈنے میں کروڑوں ڈالر خرچ دیتی ہیں۔

بھارت میں ملبوسات کے ایک نئے برانڈ کے مالکان کا خیال ہے کہ ان کا برانڈ بہت کامیابی حاصل کرے گا۔

’سپنک‘ نامی یہ برانڈ بالی وڈ کے مشہور سٹار سیف علی خان نے رواں سال بہت دھوم دھام سے شروع کیا تھا۔

برطانیہ کی ’اوکسفرڈ انگلش ڈکشنری ‘ کے مطابق اس برانڈ کے نام کا مطلب ’بہادر اور جوشیلا‘ ہے۔

Image caption برطانوی مارکیٹ میں ’سپنک‘ شاید تاریخ میں سب سے بدتر ترین برانڈ کا نام سمجھا جا سکتا ہے
Image caption برطانیہ میں لفظ سپنک کو عام طور پر مادہ منویہ کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے

آسٹریلیا کی بول چال میں اسے ’ایک خوبصورت شخص‘ کو بیان کرنے کے لیے لفظ سپنک کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ برانڈ ان لوگوں کے لیے مناسب ہے جو ’اپنے ماحول میں جوش و جذبے کے ساتھ رہتے ہیں۔‘

اس نئے برانڈ سے وابستہ کمپنی ’فیوچر برانڈز‘ کا کہنا ہے کہ ان کا نیا برانڈ ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جن کے ’دماغ اور جسم کسی بھی قسم کی قیود سے آزاد ہیں۔‘

لیکن جہاں تک برطانوی مارکیٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے وہاں ’سپنک‘ شاید تاریخ میں سب سے بدتر برانڈ کا نام ہے۔

وہ اس لیے کہ ماضی میں برطانیہ میں یہ لفظ پہلے کسی کو ’بہادر‘ کہنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب اس لفظ کو عام طور پر مادہ منویہ کے حوالے سے استعمال کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Steffi Njoh Monny Flickr
Image caption ’پشٹ‘ ایک فرانسیسی سوڈا کا نام ہے

’مجھے یقین ہے کہ میں وہ پہلا برطانوی شہری نہیں ہوں جس نے اس برانڈ کا نام ایک ٹریک سوٹ پر دیکھ کر زور سے قہقہہ نہ لگایا ہو۔‘

سپنک کی مصنوعات میں جوتے، ٹی شرٹیں اور جرابیں بھی فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔

لیکن سپنک عالمی مارکیٹ میں کسی کمپنی کا واحد نامناسب نام نہیں ہے۔

جب میں نے اپنے ایک دوست کو سپنک سے خریدی گئی اپنی نئی جرابیں دکھائیں تو اس نے فوراً ہی مجھے اپنے پسندیدہ نامناسب نام کی برانڈ بتائی۔

اس نے بتایا کہ ایک ویت نامی آئس کریم کمپنی نے اپنا نام ’فینی‘ رکھا ہے، جو انگریزی بولنے والے لوگوں کو ضرور ہنسائے گی۔ یہ نام برطانیہ میں خواتین کے مخصوص جنسی اعضا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اور اگر آپ انٹرنیٹ پر تھوڑی بہت تحقیق کریں تو آپ کو کئی کمپنیوں کے نامناسب نام ملیں گے۔

آپ’پشٹ‘ نامی نمبو پانی پینا پسند کریں گے؟ یا پھر شاید ’بونگا‘ نامی کافی کے ساتھ ’پلوپ‘ نامی چاکلیٹ کھانا پسند کریں گے؟

ہو سکتا ہے کہ آپ کو گھانا کا ’پی کولا‘ نامی مشروب پسند آجائے؟ اور ہاں، ایک سویڈش کمپنی کی جانب سے غسل خانوں کے لیے بنائے گئے ’کریپ‘ نامی ٹشو پیپر لینا نہ بھولیے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Duncan C Flickr
Image caption اگر آپ انٹرنیٹ پر تھوڑی بہت تحقیق کریں تو آپ کو کمپنیوں کے کئی قسم کے نامناسب نام ملیں گے

سپنک نامی مصنوعات اپنی گھریلو مارکیٹوں میں خوب بکتی ہوں گی لیکن انھیں انگریزی مارکیٹ میں مشکل سے فروخت کیا جائےگا۔ کئی کمپنیاں تو آسانی سے اپنے نام ہی بدل دیتی ہیں۔

بیلجیئم سے ’آئسس‘ نامی ایک چاکلیٹ کمپنی بھی ان کئی کمپنیوں طرح متاثر ہوئی ہے جن کا نام مصر کی مشہور دریائی دیوی کے نام پر رکھا گیا تھا۔

لیکن شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی پیش قدمی کے بعد اس چاکلیٹ کمپنی نے کسی قسم کی الجھن سے بچنے کے لیے اپنا نام ہی بدل ڈالا ہے۔

ایک امریکی موبائل کمپنی کے ساتھ ساتھ مشہور برطانوی برانڈ ’این سمرز‘ نے بھی ایک نئی لانژرے یا خواتین کے شب خوابی کے لباس کی برانڈ کا نام بھی ’آئسس‘ رکھا تھا جس پر اس نے معذرت کر لی ہے۔

کئی کمپنیاں اپنی ان برانڈز کے نام بدل دیتی ہیں جنھیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لیکن ایک حیرت انگیز نام ہمیشہ ناکامی کا سبب نہیں بنتا۔

آخر کار جب فیشن کے ملبوسات کی برطانوی کمپنی’فرینچ کنیکشن‘ نے اپنا نام بدل کر ’ایف سی یو کے‘ کر دیا تو اس نے بہت کامیابی حاصل کی۔

اسی بارے میں