تمل ناڈو میں بارشوں سے ایک ماہ میں 269 ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موسلا دھار بارشوں کے وجہ سے چنّئی کے بیشتر علاقے پانی کی زد میں آگئے اور اب بیشتر علاقوں میں پانی بھرا ہوا ہے

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تمل ناڈو کے دارالحکومت چینّئی میں زبردست بارش سے پیدا ہوئی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ریاست کے دورے پر ہیں۔

ادھر جمعرات کی صبح مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں چینّئی کی موجودہ صورت حال پر بیان دیتے ہوئے اس کی تفصیلات بتائی ہیں۔

انھوں نے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے گذشتہ ایک ماہ کے دوران تمل ناڈو میں 269 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان کے بیان کے مطابق حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہزاروں لوگ اب بھی چینّئی میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چینّئی شہر کے ریلوے سٹیشن پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے ریل سروسز اب بھی معطل رہیں گی۔

جمعرات کی شام تک محکمہ ریلوے اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرے گا کہ شہر میں کس سٹیشن سے ٹرین سروس شروع کی جا سکتی ہیں۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس مشکل سے نکلنے کے لیے ریاست تمل ناڈو کو بطور امداد 904.9 کروڑ روپے کی مالی مدد دی جا چکی ہے۔ ساتھ ہی وزرا کے ایک گروپ نے چینّئی میں صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور اگلے ہفتے تک اس سے متعلق رپورٹ پیش کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیلاب کی صورت حال کی وجہ سے ریل، سڑک اور فضائی سروسز بری طرح متاثر ہوئی ہے۔تقریبا 22 ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور 11 ٹرینوں کو تبدیل شدہ روٹ پر چلایا جا رہا ہے

انھوں نے کہا کہ این ڈی آر ایف کی 30 ٹیمیں امدادی کاموں میں لگی ہوئی ہیں۔

بارش کی وجہ سے مواصلاتی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق 40 فیصد موبائل فونز اور 20 فیصد لینڈ لائن فون کام نہیں کر رہے۔

اس درمیان موبائل ٹیلی فون سروس فراہم کرنے والی کمپنی بی ایس این ایل نے چنّئی میں اگلے ایک ہفتے کے لیے مفت سروس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بدھ کو چنّئی کے حالات پر بحث ہوئی تھی اور پارلیمنٹ کے ارکان نےحالات پر تشویش ظاہر کی تھی۔

تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا بھی جمعرات کو چنّئی شہر کا فضائی جائزہ لیں گی۔

گزشتہ چند دنوں سے جاری شدید بارشوں کی وجہ سے تمل ناڈو کے دارالحکومت چینّئی میں حالات بدتر ہو گئے ہیں۔ شہر کے تقریباً 70 فیصد علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں