’ملا اختر منصور دو دن پہلے فائرنگ میں زخمی ہوئے، حالت تشویشناک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا منصور اختر پاکستان میں فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان ان اطلاعات کی تردید کر رہے ہیں لیکن بدھ سے طالبان ذرائع ملا منصور اختر کے زخمی ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور فائرنگ سے ’زخمی‘

افغان طالبان میں قیادت پر اختلافات، نیا دھڑا تشکیل

جمعرات کو افغانستان میں صدر اشرف غنی کے بعد اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نواح میں دو دن قبل مسلح تصادم میں زخمی ہوئے۔

’افغان اور بین الاقوامی میڈیا نے طالبان کے ایک دھڑے کے سربراہ ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی رپورٹیں شائع کی ہیں۔ افغانستان کی حکومت ان اطلاعات کی تصدیق کرتی ہے کہ ملا منصور اختر زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی ہلاکت کی خبروں سے متعلق حکومت کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق افغانستان کے ایک ترجمان سلطان فیضی کا کہنا ہے کہ’ ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ملا اختر ہلاک ہو گئے ہیں یا زندہ ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔‘

بدھ کو طالبان ذرائع نے بتایا تھا کہ ملا منصور اختر فائرنگ میں شدید زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق فائرنگ کا واقعہ صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں پیش آیا۔ تاہم طالبان کے ایک ترجمان نے کسی مسلح جھڑپ اور ملا منصور اختر کے زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے قریب ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

افغان طالبان کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک ملاقات میں بحث کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملا منصور اختر اس میں شدید زخمی ہو گئے۔

طالبان ذرائع کے مطابق بظاہر فائرنگ کا واقعہ اچانک ہی پیش آیا اور اس کی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔

طالبان کے دیگر کئی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملا منصور اختر اور ان کے محافظ ایک دوسرے عسکریت پسند عبداللہ سرحدی کے گھر موجود تھے جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ ملا منصور اختر مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوا۔‘

جولائی میں افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔

ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔

تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔

اسی بارے میں