افغان طالبان کا ’ملا اختر منصور سے منسوب بیان‘ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا

افغانستان میں طالبان نے اپنے امیر ملا اختر منصور سے منسوب ایک صوتی بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اپنے زخمی یا ہلاک ہونے ہو جانے کی اطلاعات کو دشمن کا پرچار قرار دیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے میڈیا کو ملا اختر منصور سے منسوب پیغام بھیجا گیا ہے۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور فائرنگ سے ’زخمی‘

افغان طالبان میں قیادت پر اختلافات، نیا دھڑا تشکیل

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار سید انور کے مطابق بظاہر یہ تصدیق کرنا مشکل ہے کہ یہ آڈیو پیغام ملا منصور اختر کی آواز میں ہی ہے یا نہیں، کیونکہ انھوں نے بہت کم میڈیا سے بات کی ہے تاہم افغان طالبان کا کہنا ہے کہ یہ پیغام ملا منصور اختر کا ہی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق پیغام میں’ملا منصور اختر‘ نے کہا ہے کہ وہ زندہ سلامت ہیں اور اپنے دوستوں کے درمیان ہیں اور وہ کبھی بلوچستان کے علاقے کچلاک نہیں گئے۔

بیان میں ثبوت کے طور پر صوبہ وردیک میں جمعے کو پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے تصدیق کی تھی کہ افغان طالبان کے امیر ملا منصور اختر پاکستان میں فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان ان اطلاعات کی تردید کر رہے ہیں لیکن بدھ سے طالبان ذرائع ملا منصور اختر کے زخمی ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں۔

جمعرات کو افغانستان میں صدر اشرف غنی کے بعد اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نواح میں دو دن قبل مسلح تصادم میں زخمی ہوئے۔

’افغان اور بین الاقوامی میڈیا نے طالبان کے ایک دھڑے کے سربراہ ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی رپورٹیں شائع کی ہیں۔ افغانستان کی حکومت ان اطلاعات کی تصدیق کرتی ہے کہ ملا منصور اختر زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی ہلاکت کی خبروں سے متعلق حکومت کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔‘

بدھ کو طالبان ذرائع نے بتایا تھا کہ ملا منصور اختر فائرنگ میں شدید زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق فائرنگ کا واقعہ صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں پیش آیا۔ تاہم طالبان کے ایک ترجمان نے کسی مسلح جھڑپ اور ملا منصور اختر کے زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے قریب ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

جولائی میں افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔

ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔

تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔

اسی بارے میں