بیجنگ میں دھند اور گرد و غبار کے بادل، ریڈ الرٹ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام کے مطابق شہر کی فضا مزید تین تک دھند اور گردوغبار سے آلودہ رہ سکتی ہے

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں فضائی آلودگی میں اضافے کے بعد ’ریڈ الرٹ‘ جاری کر دیا گیا ہے جس کے بعد سکولوں میں تعطیل ہے اور تعمیراتی کام روک دیے گئے ہیں۔

بیجنگ فضائی آلودگی کی لپیٹ میں (تصاویر)

بیجنگ میں ’اورنج الرٹ‘ جاری

سرکاری خبررساں ادارے شن ہوا کے مطابق ریڈ الرٹ بلند ترین سطح ہے اور اس سے قبل شہر میں اسے کبھی لاگو نہیں کیا گیا۔

حکام کے مطابق شہر کی فضا مزید تین تک دھند اور گردوغبار سے آلودہ رہ سکتی ہے۔

اس دوران آلودگی کم کرنے کے لیے ایک دن طاق عدد والی نجی گاڑیوں اور دوسرے دن جفت عدد نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو چلانے کی اجازت ہوگی۔

یہ الرٹ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب چین پیرس میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔

اگرچہ بیجنگ میں آلودگی کی سطح گذشتہ ایک ہفتے سے کم رہی ہے تاہم ریڈ الرٹ اس لیے جاری کیا گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ریڈ الرٹ کا اطلاق منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے ہوگا اور یہ جمعرات کو دن 12 بجے تک رہے گا۔

امید کی جارہی ہے کہ اس دوران موسم میں خنکی کے باعث دھند اور گرد کے بادل چھٹ جائیں گے۔

چین کی سی سی ٹی وی کے مطابق ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران بیجنگ کے کچھ حصوں میں حد نگاہ صف 200 میٹر تک رہ گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ریڈ الرٹ کا اطلاق منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے ہوگا اور یہ جمعرات کو دن 12 بجے تک رہے گا

خیال رہے کہ کوئلے سے چلنے والی کارخانوں اور تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والے گردغبار سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ حبس اور ہواؤں کی بندش سے اس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے گرین پیس کے کارکنوں نے چینی حکومت سے ریڈ الرٹ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

دسمبر 2013 میں ایک اور چینی شہر ننجیانگ میں بھی ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 30 نومبر کو بیجنگ میں ’اورنج الرٹ‘ جاری کیا گیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چینی حکام کاربن کے اخراج کو روکنے سے متعلق سخت اہداف سے اجتناب کر رہے تھے تاہم اب انھیں اس امر کا اندازہ ہوا ہے کہ انھیں کوئلے سے حاصل ہونے والے ایندھن پر انحصار کو ختم کرنا ہوگا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں بھی کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں