صرف دو منٹ میں بات بن گئی

تصویر کے کاپی رائٹ MEA India
Image caption نواز شریف اور نریندر مودی کی پیرس میں ملاقات کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا ایک سلسلہ چل نکلا

نریندر مودی اور نواز شریف صرف دو منٹ کے لیے پیرس میں ملے اور بات بن گئی۔ بنکاک میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹری بھی مل لیے اور قومی سلامتی کے مشیر بھی، نہ کسی صحافی کو خبر ہوئی اور بظاہر نہ حریت کانفرنس کو۔

لیکن اس رازداری کا مقصد کیا تھا؟ اس سے کیا پیغام جاتا ہے؟ کیا یہ بھارت پاک سفارت کاری کا نیا ’نارمل‘ ہے؟

محبتوں کے شہر پیرس میں نواز مودی ملاقات

’پاک بھارت مذاکرات پر ڈیڈ لاک کسی حد تک ختم ہوا ہے‘

فی الحال سوال زیادہ ہیں اور جواب کم۔ بنکاک میں ملنے اور ملاقات کو خفیہ رکھنے کا مقصد میڈیا کے پریشر سے بچنا اور پاکستانی وفد کو حریت سے دور رکھنا ہو سکتا ہے لیکن جس کنوئیں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت خود کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہی ہے، وہ اس کا اپنا ہی کھودا ہوا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ باہمی تعلقات میں کیا بدلا ہے؟ مذاکرات کی بحالی کے لیے جو معیار بھارتی حکومت نے طے کیا تھا، کیا وہ حاصل ہو گیا ہے؟ اور اگر گذشتہ برس اگست سے کچھ نہیں بدلا ہے (جب سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات منسوخ کیے گئے تھے) تو حکومت نے اپنی پالیسی کیوں بدلی ہے؟

کشمیر پر مذاکرات پہلے ایجنڈے میں کیوں شامل نہیں تھے اور اب کیوں ہیں؟ کیا آئندہ مذاکرات بھی کسی تیسرے ملک میں ہی ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption اس سے قبل دونوں اوفا میں ملے تھے

اگر قومی سلامتی کے مشیر اور خارجہ سیکریٹری مل سکتے ہیں، دونوں وزیر اعظم ہاتھ ملا سکتےہیں، سشما سوارج اسلام آباد جا سکتی ہیں، وہاں سرتاج عزیز اور وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کر سکتی ہیں، تو پھر دونوں ملکوں کی ٹیمیں سری لنکا میں کرکٹ کیوں نہیں کھیل سکتیں؟ یا یہ اعلان بھی ہونے والا ہے؟

پیرس میں کیا دونوں رہنما اتفاقاً ملے تھے یا سب کچھ پہلے سے طے تھا، یا جیسا کہ سینیئر صحافی برکھا دت نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ کھٹمنڈو میں ایک بھارتی صنعت کار کی ثالثی میں دونوں کی خفیہ ملاقات ہوئی تھی، پھر وہی یا کوئی دوسرا ثالث بات چیت کرا رہا ہے؟

سوال تو بہت ہیں لیکن فی الحال صرف یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت آخرکار اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پاکستان سے بات کرنا بات نہ کرنے سے بہتر ہے۔

بنیادی سوال جس کا حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا وہ یہ ہے: اگر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو کیا حکومت بات چیت جاری رکھے گی یا تمام روابط پھر سے منقطع کر دیے جائیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا دونوں ممالک کے درمیان اب کرکٹ سیریز کا بھی اعلان ہوگا

اگر نہیں تو کیا حکومت 2009 کے شرم الشیخ معاہدہ سے اتفاق رکھتی ہے جس پر منموہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی نے دستخط کیے تھے اور جس میں پہلی مرتبہ یہ عزم کیا گیا تھا کہ بات چیت کے عمل اور دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو جوڑا نہیں جائے گا۔

اس وقت حزب اختلاف بی جے پی نے اس اعلامیے کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

بنکاک کی ملاقات سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ دونوں حکومتیں چاہیں تو کچھ راز پوشیدہ رکھ سکتی ہیں، میڈیا کو بے خبر رکھنا اتنا مشکل بھی نہیں اور دونوں حکومتیں میڈیا کے پریشر سے گھبراتی ہیں۔

لیکن اگر دونوں وزرائے اعظم کی دو منٹ کی ملاقات سے اتنی پیش رفت ہو سکتی ہے تو کاش وہ پانچ دس منٹ بیٹھ کر بات کر پاتے! دونوں کو اب سنجیدگی سے اپنے دفاتر میں فون لگوانے پر بھی غور کرنا چاہیے تاکہ بات چیت کے لیے اوفا، پیرس اور کھٹمنڈو کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

اسی بارے میں