نیپالی نوجوان بیرون ملک کیوں جا رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Susan Hale Thomas ICIMOD
Image caption اپریل کے مہینے میں آنے والے زلزلے میں نیپال میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے

رواں سال اپریل میں نیپال میں آنے والے زلزلےکے نتیجےمیں 9000 افراد ہلاک، اور اس سے کہیں زیادہ بے گھر ہوگئے تھے۔

اس وقت وہاں ہزاروں لوگوں کو ایک مشکل فیصلے کا سامنا ہے کہ کیا ان کو اپنے ملک میں رہ کر اس کی تعمیرنو کرنی چاہیے یا پھر پیسہ کمانے کے لیے بیرون ملک چلے جانا چاہیے؟

سابن اسی مخمصے کا شکار ہیں۔ ہم ان کے گاؤں میں ایک چائے کی دکان پر بیٹھے تھے۔

25 سالہ پریشان حال سابن نے بتایا: ’مجھے قطر میں اپنی نوکری پر واپس جانا ہے، جہاں مجھے اگلے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے سٹیڈیم کی تعمیر میں حصہ لینا ہے۔ لیکن اگر میں چلا جاتا ہوں تو مجھے یہ تشویش ہے کہ میرا خاندان میرے پیچھے سردیوں میں کس طرح زندگی گزارے گا۔ اور اگر میں رک جاتا ہوں تو ہمارے پاس نئے گھر کی تعمیر کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے؟‘

سابن کا گھر رواں سال کے اوائل میں نیپال میں آنے والے زلزلے میں تباہ ہوگیا تھا۔ اتنے مہینے گزرجانے کے بعد بھی ان کے بیوی اور دو سالہ بیٹا لوہے کی چادروں کی ایک عارضی پناہ گاہ میں رہ رہے ہیں۔

دارالحکومت کھٹمنڈو سے تین گھنٹے کے ناہموار بس کے سفر کی مسافت پر سابن کا پہاڑیوں میں گھرا گاؤں پہلی نظر میں ایک ہرے بھرے اور پرسکون مقام کا تاثر دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Susan Hale Thomas ICIMOD
Image caption نیپال گذشتہ کئی سالوں سے اندرونی خلفشار کا شکار ہے

دو سال بعد قطر سے واپس اپنے گھر آنے والے سابن کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے، تعمیراتی کام کرنے والے بہت سے مرد یہ جگہ چھوڑ کر جا چکے ہیں، اور اب یہاں کوئی نہیں ہے جو یہاں زلزلے سے تباہ شدہ مکانوں کی دوبارہ تعمیر کر سکے۔‘

گذشتہ 20 سالوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ نیپالی، جو ملک کی آبادی کا دس فیصد ہے، روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر سابن جیسے نوجوان ہیں۔ سابن نے پوچھا کہ ’کیا آپ نے غور کیا کہ یہاں کوئی جوان مرد نہیں ہے؟ وہ تمام روزگار کی تلاش میں ملائیشیا، قطر، ابو ظہبی، دبئی اور دیگر ممالک چلے گئے ہیں۔ یہاں کوئی نہیں ہے۔‘

وطن سے باہر کام کرنے والے نیپالیوں کو وہاں مشکلات کا سامنا بھی ہے، خاص طور پر ان کو جو اپنے پہاڑی علاقوں کی ٹھنڈی فضا کو چھوڑ کر خلیجی ریاستوں کی جھلسا دینے والی گرمی میں محنت کر رہے ہیں۔

سابن نے بتایا خلیجی ریاستوں میں جانے والے بہت سے نیپالیوں کے لیے وہاں کے حالات میں رہنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

’کچھ لوگ تو وہاں گرمی سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ سردی سے بھی ہلاک ہوجاتے ہیں۔ سارا دن شدید گرمی میں کام کرنے کے بعد مزدور وہاں کے رواج کے مطابق اکثر ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں سوتے ہیں۔ درجہ حرارت کی اس تبدیلی سے کچھ مزدور نیند میں ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ہم اس کو موت کا کمرہ کہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روزگار کی تلاش میں نیپال کے نوجوان بیرون ملک کا رخ کر رہے ہیں

بیرون ملک نیپالیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم نیپال کی معیشت کےلیے اہم ہیں۔ نیپال میں زیادہ تر لوگ فی کس دو ڈالر یومیہ اجرت پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک غربت سے باہر نکلنے کی کوشش میں مشکلات کا شکار ہے۔

سنہ 2006 میں ختم ہونے والی دس سالہ خانہ جنگی کے بعد ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔

ملک کے جنوب میں رہنے والے بھارتی نژاد لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین میں ان کے ساتھ امتیاز برتا گیا ہے۔ ان پر بھارت سے تیل، دوائیں، اور دیگر اشیا در آمد کرنے پر پابند لگا دی گئی ہے۔ کھٹمنڈو میں کئی حلقے بڑے بھائی بھارت پر ہراساں کرنے اور بدامنی پھیلانے کا الزام لگاتی ہیں۔

ہم نے پہاڑ پر چڑھ کر سابن کے مکان کی باقیات دیکھیں۔ وہاں پر صرف دو دیواریں رہ گئی تھیں جن کے درمیان ایک بوسیدہ لکڑی کی چھت لٹک رہی تھی۔ باقی سب ملبے کا ڈھیربن چکا تھا۔

سابن نے بتایا کہ ’یہاں کے لوگ اعصابی تناؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔ جب بھی کوئی زور دار آواز آتی ہے، توبچے خوف کے مارے اپنے ٹھکانوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ میری ماں کہتی ہے کہ زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں خدا اور شیطان ابھی تک لڑ رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Susan Hale Thomas ICIMOD
Image caption تعمیر نو کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے اور نیپال میں آمدنی کے ذرا‏ئع کم ہیں

پناہ گاہ اندر سے تاریک اور بوسیدہ ہے۔ اندر ایک بڑا فلیٹ سکرین ٹی وی لگا ہوا ہے جو سابن قطر سے لے کر آیا تھا لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑا ہے۔

وہاں کئی دن گزارنے کے بعد میں کھٹمنڈو کے چھوٹے سے ایئر پورٹ سے واپس جا رہا ہوں۔ یہاں پر ’مائگرینٹ ورکر‘ کے بورڈ کے آگے نوجوان مردوں کی ایک لمبی قطار ہے، جو ملازمت کی خاطر بیرون جانے کے لیے پاسپورٹ کنٹرول سے گزرنے کا انتظار کررہے ہیں۔

نئے جانے والوں کو آسانی سے پہچان لیاجاتا ہے۔ وہ قدرے بہتر لباس میں ہیں۔ ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ نوجوان خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرنے کے بجائے چھٹیاں گزارنے جارہے ہیں۔ اوسطا 1500 افراد روزانہ نیپال سے باہر جارہے ہیں۔

میں نے ان لوگوں میں سابن کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔

ممکن ہے اس نےوطن میں ہی رہنے کا فیصلہ کرلیا ہو۔ لیکن شاید وہ واپس جائے گا، شدید گرمی میں پسینے سے شرابور فٹبال سٹیدیم کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے، تاکہ وہاں سے پیسے کمانے کے بعد پہاڑوں کے درمیان آباد اپنے گاؤں کے کسی پرفضا مقام پر اپنے گھر کی دوبارہ تعمیر کا خواب پورا کر سکے۔

اسی بارے میں