دلی کا چھوٹا کابل

Image caption گلیوں کی نکڑ پر، بیکریوں میں اور چائے کی دکانوں پر، جگہ جگہ آپ کو افغان نوجوان بات چیت میں مصروف نظر آتے ہیں

دلی شہر کے بیچ و بیچ لاجپت نگر کے مصروف ترین کاروباری علاقے کے ایک گوشے میں افغانستان کا دل دھڑکتا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد یہاں پاکستانی پنجاب سے آنے والے ہندوؤں کو بسایا گیا تھا۔ اب یہاں ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری نظر آتے ہیں۔

جگہ جگہ افغان بیکریاں، ہوٹل، جنرل سٹور ہیں اور کرنسی بدلنے والوں کی دکانیں ہیں۔ جتنے سائن بورڈ انگریزی یا ہندی میں ہیں اس سے زیادہ پشتو میں نظر آتے ہیں۔

حشمت اللہ پیرزادہ یہاں کے مقبول دلی کابل ہوٹل کے مالک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لاجپت نگر اس لیے چھوٹا کابل بنا کیونکہ افغانستان سے یہاں آنے والوں کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ دوسرا ملک ہے۔ ان کی جو بھی ضروریات ہیں، پوری ہوتی ہیں۔‘

یہاں بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین آباد ہیں، گلیوں کی نکڑ پر، بیکریوں میں اور چائے کی دکانوں پر، جگہ جگہ آپ کو افغان نوجوان بات چیت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہاں اس بات پر تو اتفاق ہے کہ افغانستان کا سب سے بڑا چیلنج سلامتی ہے لیکن ہونا کیا چاہیے اس پر رائے تقسیم ہے۔

ایک نوجوان ٹورسٹ گائڈ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتے ہیں کہ ’عام افغانوں کی صرف ایک امید ہے، وہ امن چاہتے ہیں۔ لوگ بہت برسوں سے پریشان ہیں۔ ان کی صرف یہی امید ہے کہ امن آنے سے تعلیم کے راستے کھلیں گے، لوگوں کی زندگی میں سکون آئے اور دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔‘

اسلام آباد میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس پر بھی بہت سے لوگوں کی نظر ہے۔

Image caption جگہ جگہ افغان بیکریاں، ہوٹل، جنرل سٹور ہیں اور کرنسی بدلنے والوں کی دکانیں ہیں

وحید خان مترجم ہیں جو علاج کے لیے افغانستان سے یہاں آنے والے مریضوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

’یورپ اور باقی سب کو معلوم ہے کہ مسئلے کا حل کیا ہے لیکن وہ لوگ اس بارے میں کچھ نہیں سوچتے، صرف اپنے مفاد کے لیے افغانستان آتے ہیں۔ 30 سال پہلے روس تھا، اب امریکہ اور یورپ ہے۔ ہمارے خیال میں سو سال تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔‘

یہاں بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح وحید خان کا بھی الزام ہے کہ افغانستان کے مسائل میں پاکستان اور ایران کا بھی کردار ہے اور اگر وہ پیچھے ہٹ جائیں تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ افغانستان کی حکومت بھی ماضی میں اس نوعیت کا الزام لگا چکی ہے جسے پاکستان مسترد کرتا ہے۔

وحید خان کہتے ہیں کہ ’اگر ہمارے گلے سے ایران اور پاکستان کا ہاتھ ہٹ جائے تو ہمارے لیے بہتر ہے۔ افغان اب اپنے معاملات کو خود سنبھال سکتے ہیں۔‘

یہاں عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر صرف مدد ہو مداخلت نہیں تو افغانستان سنبھل سکتا ہے۔

حشمت اللہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلی ذمہ داری افغان حکومت کی ہے، اس کے بعد آس پڑوس کے ممالک، جیسے پاکستان، بھارت اور چین، ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے، لیکن ہونا کیا چاہیے یہ تو 50 برسوں میں تو کسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔

لٹل کابل میں جس سے بھی بات کریں ایک واضح پیغام ملتا ہے: ’افغانستان کی نبض ہندوستان اور پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ انھیں مرض بھی پتہ ہے اور علاج بھی۔‘

اسی بارے میں