ایک کروڑ سے زیادہ چینی شہریوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption چین میں شادی، بینک اکاؤنٹ کھولنے، میڈیکل انشورنس یا بنیادی تعلیم کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے ہوکو کی موجودگی لازمی ہے

چین میں حکومت نے ایک کروڑ 30 لاکھ غیر تصدیق شدہ افراد کو ان حکومتی دستاویز کے حصول کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے جن کے تحت وہ بنیادی شہری حقوق اور سہولیات تک رسائی پا سکیں گے۔

چین کی تقریباً ایک فیصد آبادی وہاں کی بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے گھرانہ شماری کی اہم دستاویز ’ہوکو‘ سے محروم ہے۔

ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی سے کیا فائدہ ہوا؟

چین: ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی ختم کرنے کا اعلان

ان میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جو یا تو یتیم ہیں، بےگھر ہیں یا پھر ان والدین کے یہاں پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے چین کے ایک خاندان ایک بچے کی سخت پالیسی کی خلاف ورزی کی ہوئی ہے۔

’ہوکو‘ نامی دستاویز کے بغیر چینی شہری بہتر تعلیم اور صحت، باقاعدہ ملازمت کے مواقعوں اور شادی رجسٹر کروانے کے حق جیسی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔

چین کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہوکو‘ تمام شہریوں کے لیے یکساں حقوق حاصل کرنے کا قانونی استحقاق ہے۔

چین کے سرکاری ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی نے ان اصلاحات کے ضمن میں حکومت کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہوکو حاصل کرنا ہر چینی شہری کا بنیادی قانونی حق ہے۔ اس کے تحت تمام شہری ملک کے سماجی معامالات میں حصہ لے سکتے ہیں، حقوق حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے فرائض آسانی سے اد کرسکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین نے حال ہی میں فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

ہوکو کی رجسٹریشن کا دائرہ وسیع کرنے کے بعد چین میں تقریبا ایک کروڑ تیس لاکھ مزید افراد کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔

چین میں اگر کوئی شخص شادی کرنا چاہتا ہے، یا بینک اکاؤنٹ کھولنا چاہتا ہے، یا پھر میڈیکل انشورنس یا بنیادی تعلیم کی سہولیات حاصل کرنا چاہتاہے تو اس کے پاس ہوکو کا موجود ہونا لازمی ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں کی دو میڈیکل چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق چین نے اپنی صحتِ عامہ کی انشورنس سکیموں کے انضمام کی منظوری بھی دے دی ہے تاکہ ملک کے ہر شہری کو صحت کی یکساں سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ملک میں اس وقت دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا معیار شہری علاقوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

چین کا کہنا ہے اس کی ڈیڑھ ارب کے قریب آبادی میں تقریباً ہر شخص کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دستیاب ہے لیکن ان منصوبوں کے تحت ابھی بھی مریضوں کو علاج کے لیے اپنی جیب سے ایک بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔

چین کی برسر اقتدار جماعت چائنیز کمیونسٹ پارٹی نے اکتوبر میں اپنی خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا جس کے تحت شادی شدی جوڑوں کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

چین میں فی خاندان ایک بچہ کا متنازع حکومتی فیصلہ سنہ 1979 میں کیا گیا تھا جس کا مقصد ملک کی شرح پیدائش میں کمی کر کے آبادی پر قابو پانا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں اس پالیسی کے نفاذ سے اب تک تقریباً 40 کروڑ بچوں کی پیدائش کو روکا گیا۔

اسی بارے میں