بھارت کا جاپان سے بلٹ ٹرین خریدنے کا معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ماہ وزیراعظم کی کابینہ نے 14.7 ارب ڈالر مالیت کا بلٹ ٹرین نظام خریدنے کی منظوری دی تھی۔

بھارت نے اپنے ریلوے نظام کی خراب حالت کو بہتر کرنے کے لیے جاپان سے جدید ہائی سپیڈ یا تیز رفتار ٹرین خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ یہ ٹرین ممبئی سے احمد آباد کے درمیان چلائی جائے گی اور اس سے سفر کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے کم ہو کر دو گھنٹے رہ جائے گا۔

ہائی سپیڈ ٹرین جاپان اور بھارت کے درمیان ہونے والے متعدد معاہدوں کا حصہ ہے۔

دونوں ممالک نے دیگر کئی شعبوں میں تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں دفاعی ٹیکنالوجی اور پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے سمجھوتے شامل ہیں۔

گذشتہ ماہ وزیراعظم کی کابینہ نے 14.7 ارب ڈالر مالیت کا بلٹ ٹرین نظام خریدنے کی منظوری دی تھی۔

جاپان سے ٹرین خریدنے کامعاہدہ جاپانی وزیراعظم کے جمعے سے بھارت کے شروع ہونے والے تین روزہ دورے کے دوران ہوا ہے۔

رواں برس فروری میں بھارت کے وزیر ریلوے سریش پربھو نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ریلوے کا حلیہ بدلنے کے لیے ساڑھے آٹھ لاکھ کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے جائیں گے۔

بھارتی ریل کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکس میں کیا جاتا ہے۔ ان پٹریوں پر روزانہ 12 ہزار ریل گاڑیاں چلتی ہیں اور سوا دو کروڑ مسافر سفر کرتے ہیں۔ ریلوے کے اپنے ملازمین کی تعداد 13 لاکھ کے قریب ہے۔

وزیر ریلوے کے مطابق موجودہ ٹرینوں کی رفتار بڑھائی جائے گی اور تیز رفتار ریل گاڑیاں چلانے کے لیے نئے کاریڈار بنائے جائیں گے، 970 ریلوے پل بنائے جائیں گے، 400 سٹیشنوں پر وائرلیس نیٹ ورک کی سہولت مہیا کی جائے گی، ٹرینوں میں نئے ڈیزاین کے ٹائلٹ بنائے جائیں گے جنہیں صاف رکھنا زیادہ آسان ہوگا۔

اسی بارے میں