بنگلہ دیش میں ٹوئٹر اور سکائپ پر سے پابندی اٹھا لی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس سے قبل فیس بک، وٹس ایپ اور وائبر جیسی خدمات پر پابندی ‏عائد کی گئی تھی

بنگلہ دیش کی حکومت نے ٹوئٹر اور سکائپ جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر لگائی گئی پابندی کو ختم کردیا ہے۔

اس سے قبل اتوار کو بنگلہ دیش کی حکومت نے ٹوئٹر اور سکائپ جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ضابطہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گذشتہ ماہ جاری کیے جانے والے حکم ہی کی توسیع ہے۔ گذشتہ ماہ وٹس ایپ اور وائبر جیسی مسیجنگ سرو‎سز پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق سنہ 1971 میں جنگی جرائم کے سلسلے میں دو رہنماؤں کی پھانسی کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاہم تازہ پابندی کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئي۔

اس سے قبل حکومت نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پھانسی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو یکجا کرنے کے لیے ان سروسز کا استعمال کیا جا سکتا ہے اس لیے انھیں بند کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ صرف تین روز قبل ہی فیس بک سے 22 دنوں بعد پابندی ہٹائی گئي ہے کیونکہ کاروباری برادری نے یہ شکایت درج کرائی تھی کہ اس کے بند ہو جانے سے ان کی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔

ڈھاکہ سے ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ سرکاری طور پر اس ضمن میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم مقامی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش ٹیلی کام ریگولیٹری کمیشن نے گذشتہ رات تمام انٹرنیٹ آپریٹروں کو خطوط جاری کر کے یہ پابندی عائد کی ہے۔

ایک ٹوئٹر ہینڈل سے سلیل ترپاٹھی نے لکھا: ’بنگلہ دیش میں کوئی چیز بھی پابندی سے بچ سکی ہے کیا؟ ٹوئٹر، چکما فلم، طنزیہ ویب سائٹ، سکائپ ۔۔۔ اور اب نہ جانے کس کی باری ہے۔‘

پابندیوں کی زد میں آنے والے تازہ سوشل میڈیا میں ٹوئٹر، سکائپ اور ایمو کی سروسز شامل ہیں۔

اسی بارے میں