ڈھاکہ یونیورسٹی نے پاکستان سے تعلیمی ناطہ توڑ لیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بنگلہ دیش کے سب سے اعلیٰ تعلیمی ادارے ڈھاکہ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تمام تعلیمی تعلقات ختم کر رہی ہے۔

ڈھاکہ یونیورسٹی نے حکومت سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ جب تک پاکستان 1971 کی جنگ کے دوران ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے لیے معافی نہیں مانگتا، اس وقت تک اس کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا جائے۔

سنہ 1971 کی جنگ کے وقت بنگلہ دیش پاکستان کا ایک حصہ تھا جسے مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا۔ جنگ کے بعد یہ علاقہ پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک کے طور پر وجود میں آیا تھا۔

پاکستان نے گذشتہ ماہ پاکستان کے حامی دو رہنماؤں کو جنگی جرائم کے لیے بنگلہ دیش میں پھانسی دیے جانے پر افسوس ظاہر کیا تھا جس کے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے دو طرفہ تعلقات میں تلخی آ گئی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ 1971 میں کسی بھی مبینہ جنگی جرائم میں وہ شامل نہیں تھا۔ پاکستان کے رویے میں یہ تبدیلی حال ہی میں دیکھی گئی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان نے 1971 کی جنگ کے دوران برتی گئی ’افسوس ناک زیادتیوں‘ پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔

اس جنگ کے دوران وسیع پیمانے پر قتل عام، اذیتیں اور جنسی زیادتی کے واقعات ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دوران تقریباً 30 لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔

بنگلہ دیش نے حال ہی میں جنگی جرائم میں دو رہنماؤں کو پھانسی دینے کے بعد سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ملک میں سوشل میڈیا کی ویب سائٹس ٹویٹر فیس بک اور اسکائپ پر بھی پابندی لگائی تھی، لیکن بعد میں یہ پابندی ختم کر دی گئی۔

اسی بارے میں