ریپ کرنے والے نابالغ کے لیے ایک اور موقع؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم عمر ملزم کو جنسی زیادتی اور قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے اصلاحی ادارے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی

تین سال قبل بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ایک بس میں ایک 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والوں میں شامل ایک نوجوان کو رہا کیا جا رہا ہے جو اس واقعے کے وقت نابالغ تھے۔

دہلی میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کے مطابق ان کی رہائی پر لوگوں میں بڑھتے ہوئے غصے کے باعث ان کی حفاظت اور بحالی کے لیے انھیں ایک خیراتی ادارے کے سپرد کردیا جائے گا۔

اجتماعی زیادتی کے اس واقعے پر دنیا بھر میں غم اور غصے کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ حملہ آور بھارتی عوام کی نظر میں سب سے زیادہ نفرت آمیز افراد بن گئے ہیں۔

نوعمر ملزم کے بارے میں چند حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف بالغ کے طور پر مقدمہ چلایا جائے اور ان کی سزا ان کے جرم کے حساب سے ہی ہونی چاہیے۔

کم عمر ملزم کو جنسی زیادتی اور قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے اصلاحی ادارے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ خیال رہے کہ یہ بھارت میں نابالغ افراد کے لیے مقرر زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔

الزامات کے باوجود مقدمے کی سماعت کے دوران کسی موقعے پر بھی یہ بات ثابت نہیں ہوئی تھی کہ ملزم نے دیگر ملزمان کے مقابلے میں زیادہ سفاکی کا مظاہرہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب جبکہ کم عمر ملزم کی رہائی کے تاریخ نزدیک آ رہی ہے، عوامی ناراضی بھی اپنے عروج پر ہے۔ گیتا پانڈے نے گذشتہ چند روز میں جب لوگوں کا ردعمل جاننے کے لیے عوام سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’اسے قریبی کھمبے سے لٹکا کر پھانسی دے دی جائے‘ یا پھر ’لوگ اسے سرعام جان سے مار دیں۔‘

جو لوگ قدرے نرم مزاج تھے وہ بھی چاہتے تھے کہ ملزم کو عمر قید کی سزا دے کر بھلا دیا جایا جائے۔

دوسری جانب متاثرہ لڑکی کے والدین کی جانب سے بھارت کے قومی انسانی حقوق کے کمیشن میں ملزم کی رہائی رکوانے کے لیے درخواست دائر کردی گئی ہے۔

حکام نے فی الحال اس موضوع پر چپ سادھ رکھی ہے تاہم ذمہ دار ذرائع سے بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان کی بحالی کے لیے انھیں ایک غیر سرکاری تنظیم کے حوالے کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

ملزم گذشتہ تین سالوں سے دہلی کے علاقے مجنو کا ٹیلہ میں واقع بچوں کی جیل میں قید ہیں۔ اب ان کی عمر 20 سال ہے۔

بچوں کی جیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو ایک اور موقع ملنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نوعمر ملزم کے بارے میں چند حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف بالغ کے طور پر مقدمہ چلایا جائے

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ٹھیک لڑکا ہے۔ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہے۔ جرم کے وقت وہ محض ایک بچہ تھا۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بالغ افراد کے ساتھ رہائش پذیر تھے اور وہ انھیں ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جو وہ لوگ کر سکتے ہیں وہ یہ بھی کرسکتے ہیں۔‘

بچوں کی جیل میں قیام کے دوران انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ جیل میں انھیں بنیادی ہندی، انگریزی، اور ریاضی کی تعلیم دی گئی ہے۔ جیل کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ’وہ اب ہندی اور انگریزی میں اپنے نام کے دستخط کر سکتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ انھیں کھانا پکانے، کپڑوں کی سلائی اور گٹار بجانے کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔

اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ’جب وہ رہائی پالیں گے تو چائے کا سٹال لگا سکتے ہیں یا پھر درزی بن سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ہم ان کے کردار کو ڈھالنے میں قدرے کامیاب رہے ہیں۔ انھیں اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا ایک اور موقع ضرور ملنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متاثرہ لڑکی کے والدین کی جانب سے بھارت کے قومی انسانی حقوق کے کمیشن میں ملزم کی رہائی رکوانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے

حکام اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہےکہ واقعے کو ملنے والی بہت زیادہ توجہ اور میڈیا کی جانب سے غیر مصدقہ اطلاعات پر مبنی انکشافات اور بے انتہا تنقید نے لوگوں کے ذہنوں میں ان کی ایک مسخ شدہ تصویر بنا دی ہے۔ اسی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ باہر محفوظ نہیں ہوں گے۔ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایسی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کے تحت ان کی شناخت کو مستقل طور پر خفیہ رکھا جا سکے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن بھارتی علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جرائم کا ارتکاب کرنے والے نابالغ افراد کی شناخت کو قانون کے تحت خفیہ رکھنا ضروری ہے۔ ان کے لیے انفرادی طور پر منصوبہ بندی کرنے اور ان کی بحالی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

’آپ ان سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ ہمیشہ مجرم رہیں گے اور آپ کوئی دوسری زندگی نہیں گزار سکتے۔ اس معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی بحالی اور انھیں معمول کی زندگی گزارنے کے لیے ایک اور موقع ضرور دیں۔‘

اسی بارے میں