’القاعدہ برصغیر کی بھارتی شاخ کے دو ارکان گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ کی ’بھارتی شاخ‘ کے دو مبینہ اہم اراکین کو گرفتار کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اِن گرفتاریوں سے برصغیر میں تنظیم کی سرگرمیوں کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔

القاعدہ برصغیر کی معاونت کرنے والا تاجر گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں ’محمد آصف‘ نامی شخص شامل ہے جو کہ خطے میں القاعدہ برصغیر کا ایک بانی رکن ہے۔

القاعدہ نے جنوبی ایشیا میں اپنے آپریشن کا آغاز ایک سال قبل یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ اس سے خطے میں مقیم جنگجو گروہ متحدد ہو جائیں گے۔

القاعدہ نے پاکستان میں کئی حملوں کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش میں چار سیکولر بلاگروں کو قتل کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے مشتبہ افراد نوجوانوں کو اپنی تنظیم میں بھرتی کرنے کی کارروائی میں ملوث تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ شمالی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے محمد آصف کو تب گرفتار کیا گیا تھا جب وہ مشرقی ریاست اڑیسہ میں اپنے ایک ساتھی سے ملنے جا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption القاعدہ نے پاکستان میں کئی حملوں کے ساتھ ساتھ چار سیکولر بلاگروں کو قتل کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے

پولیس نے یہ بھی کہا کہ محمد آصف سے تین موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور ’دیگر ٹھوس ثبوت‘ برآمد کیے گئے ہیں۔

محمد آصف کی گرفتاری کے نتیجے میں ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر القاعدہ کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس چلاتے تھے۔

دہلی میں پولیس کا کہنا ہے کہ بھارت اور اس کے ہمسایہ ممالک میں القاعدہ کی سرگرمیوں کو فاش کرنے میں یہ گرفتاریاں بہت مدد گار ثابت ہوں گی۔

اسامہ بن لادن کے نائب اور القاعدہ کے مرکزی منصوبہ ساز ایمن الظواہری نے ماضی میں کہا تھا کہ برصغیر میں القاعدہ کا قیام میانمار، بنگلہ دیش، اور بھارتی ریاستیں آسام، گجرات اور جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے جہاں انھیں نا انصافی اور جبر سے بچایا جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت میں القاعدہ کی کوئی خاص موجودگی نہیں ہے لیکن لوگوں کو خدشہ ہے کہ شدت پسند تنظیم کشمیر اور گجرات جیسے علاقوں میں مقیم حکومت مخالف نوجوان مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بھارت میں سرگرم اسلامی شدت پسند تنظیموں کو اب تک زیادہ تر کشمیری علیحدگی پسندوں سے منسلک کیا گیا ہے۔

پاکستان میں مقیم گروہوں کے ذریعے ان کے القاعدہ سے ساتھ تعلقات برقرار لیکن کمزور ہیں۔

اسی بارے میں