طالبان کےخصوصی دستےدولتِ اسلامیہ کےپیچھے

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ اُن کی ’خصوصی فورس‘ خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے جنگجوؤں کے ساتھ جاری خونی جنگ میں برسرِ پیکار ہے۔

یہ خطہ متعدد مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسند تنظیموں کا ٹھکانہ بھی ہے اور یہاں جاری شورش میں طالبان کے غلبے اور اجارہ داری کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کا سامنا ہے، جنھیں کچھ حمایت ملنا بھی شروع ہو گئی ہے۔ دونوں تنظیموں کے درمیان جاری رسہ کشی کا فاتح کون ہو گا؟

افغانستان میں دولت اسلامیہ کے نئے ریڈیو سٹیشن کا آغاز

دولتِ اسلامیہ اپنا وجود کیسے برقرار رکھ رہی ہے؟

طالبان کی کتنی خصوصی فورسز دولت اسلامیہ کے خلاف لڑ رہی ہیں؟

طالبان کے ذرائع کے مطابق خصوصی ٹاسک فورس کا قیام اکتوبر کے اوائل میں عمل آیا تھا اور اِس میں ایک ہزار سے زائد جنگجو شریک ہیں۔ یہ بہترین ہتھیاروں سے لیس ہیں اور اِن کو عام طالبان جنگجوؤں سے زیادہ تربیت دی گئی ہے اور اِن کا واحد مقصد دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنا ہے۔

خصوصی فورس کے ارکان کا انتخاب اُن کی لڑاکا خصوصیات اور اُن کے تجربے کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور یہ اُن تمام صوبوں میں متحرک ہیں جہاں دولتِ اسلامیہ موجود ہے یا اُن کی ممکنہ موجودگی کی اطلاعات ہیں، اِس میں ننگرہار، فرح، ہلمند اور زابل کے علاقے شامل ہیں۔

اب تک کتنے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں؟

اپریل کے بعد سے طالبان اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے متعدد بار ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے وہاں قابض ہونے کی کوشش کی ہے۔

دونوں تنظیموں کے جنگجوؤں کے درمیان زیادہ تر لڑائیاں ننگرہار، ہلمند، فرح اور زابل صوبوں میں ہوئی ہیں، جس میں دونوں جانب سے سینکڑوں جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ اصل اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں لیکن طالبان کی خصوصی فورس کے دستوں نے اکتوبر کے بعد سے دولتِ اسلامیہ کے درجنوں جنگوؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔

دوسری جانب دولتِ اسلامیہ نے بھی درجنوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر ننگرہار میں مارے گئے ہیں۔ رواں برس دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ننگرہار کے علاقے میں دس طالبان کے سر قلم کر دیے تھے۔

اِسی سال جون میں پاکستان کے شہر پشاور میں طالبان کے عبوری گورنر مولوی میر احمد گُل کو قتل کر دیا گیا تھا، اُن کے قتل کے بارے میں بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ اِس کے پیچھے دولت اسلامیہ کا ہاتھ ہے۔

دونوں کے درمیان جنگ کا آغاز کب ہوا؟

دونوں تنظیموں کے درمیان لڑائی کا آغاز جنوری 2015 میں اُس وقت ہوا، جب دولت اسلامیہ نے ’خراسان‘ (افغانستان کا پرانا نام) میں اپنی شاخ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ پہلی بار تھا جب دولت اسلامیہ نے باضابطہ طور پر عرب دنیا سے باہر اپنے قدم نکالے تھے۔

دولت اسلامیہ ہی وہ پہلی بڑی عسکریت پسند تنظیم ہے جس نے طالبان کے بانی ملا محمد عمر کی بالادستی کو براہ راست چیلنج کیا تھا۔ طالبان ملا محمد عمر کو امارت اسلامیہ افغانستان کا امیرالمومنین سمجھتے تھے۔

طالبان نے القاعدہ کی قیادت کو پناہ فراہم کی اور وہ طالبان کی بالادستی کو تسلیم بھی کرتے تھے۔ لیکن دولت اسلامیہ نے اپنے بیانات، تشہیری ویڈیوز اور طالبان پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مفادات کو فروغ دینے کے الزامات لگاتے ہوئے اُن کی بھر پور مخالفت کی ہے۔

یہ طالبان کے لیے کتنا تشویش ناک ہے؟

طالبان کی بالادستی کو دیگر جنگجوؤں نے براہ راست کبھی بھی چیلنج نہیں کیا، اور اب اُن کے لیے بدترین صورت حال یہ ہے کہ اُن کے اپنے کارکن بڑے پیمانے پر اُن سے انحراف کر کے دولت اسلامیہ میں شامل ہو رہے ہیں۔

دولت اسلامیہ جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے جارحانہ انداز میں مہم چلا رہی ہے، اُور اِن کا ہدف وہ مسلح کمانڈر ہیں جنھیں نکالا گیا یا دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔ یہ جولائی میں طالبان کے سابق امیر ملا محمد عمر کی ہلاکت کے بعد ملا اختر منصور کی نئے رہنما کی حیثیت سے تعیناتی کے بعد اقتدار کے حصول کے لیے جاری اندرونی کشمکش کا بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

گذشتہ مہینے طالبان سے علحیدہ ہوکر نئی تنظیم بنانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی دولت اسلامیہ کے خلاف ہیں۔

دولتِ اسلامیہ بمقابلہ امارت اسلامی

دونوں تنظیموں کے درمیان کئی نظریاتی اور ثقافتی اختلافات ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کا ایجنڈا سرحدوں سے بالاتر عالمی جہاد ہے اور اِن کا مقصد تمام اسلامی ریاستوں پر مشتمل ایک سیاسی ریاست کا قیام ہے۔ دوسری طرف طالبان کا ایجنڈا مقامی ہے اور یہ صرف افغانستان تک محدود ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا مقصد افغانستان کو ’غیر ملکی‘ قبضے سے آزاد کرانا اور ملک سے تمام غیر ملکی افواج کی مکمل اور فوری واپسی ہے۔

دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے مئی میں جاری کی گئی ویڈیو میں واضح الفاظ میں یہ کہا گیا تھا کہ دنیا میں دو خلافتیں نہیں ہو سکتیں اور ایک اہل خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈرون حملے

افغانستان میں اِس طرح کے حملے دولتِ اسلامیہ کے نئے نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں کے لیے سنگین دھچکہ ہیں۔ تنظیم نے حافظ سعید خان (سابق پاکستانی طالبان کمانڈر) کو ’خراسان کا گورنر‘ اور عبدالرؤف خادم (ممتاز سابق افغان طالبان کمانڈر) کو اُن کا نائب مقرر کیا تھا۔

لیکن اپنی تعیناتی کے صرف دو ہفتوں بعد ہلمند کے علاقے میں نو فروری کو ہونے والے ایک ڈرون حملے میں خادم ہلاک ہو گئے تھے۔ صرف کچھ دنوں بعد ہی اُن کے جانشین بھی ایک ایسے ہی حملے میں مارے گئے۔

جولائی کے اوائل میں دولت اسلامیہ کے ایک اور ممتاز کمانڈر اور سابق پاکستانی طالبان کمانڈر اور تنظیم کے مقامی ترجمان شاہد اللہ شاہد ننگرہار کے علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

افغان حکام کے بیانات اور میڈیا رپورٹوں کے مقابق ایک سال کے دوران دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد جنگجو امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان دولتِ اسلامیہ سے خوفزدہ کیوں؟

کچھ واقعات میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے مخالفین کو سخت طریقوں سے سزائیں دی ہیں اور اِن کو دردناک طریقوں سے قتل کیا، جس طرح اُن کے ساتھی مشرقی وسطیٰ میں کرتے ہیں اُس سے بھی بدتر طریقوں سے۔

اگست میں جاری کی گئی ایک ویڈیو سے پورے ملک میں دہشت اور خوف کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔

ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں ضلع اچِن کی پہاڑی پر دس افراد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اُنھیں دوڑا رہے ہیں، پھر اِن افراد کو زمین پر پہلے سے موجود دھماکہ خیز مواد سے بھرے ہوئے گڑھوں پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔

’توحید کے مرتدوں سے بدلہ‘ کے عنوان سے جاری ویڈیو میں دھماکے کے بعد اُن کے جسم کے اڑتے ہوئے حصوں اور مٹی کو بھی دکھایا گیا ہے۔

ننگرہار صوبے کے کئی علاقوں میں دولتِ اسلامیہ نے شہریوں کو نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں کے لیے بیویاں فراہم کرنے کو کہا اور علاقے میں سگریٹ کی فروخت اور پینے پر پابندی لگا دی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے ہزاروں مخالفین کے گھروں کو لوٹا اور اُنھیں نذر آتش کر دیا اور جو خالی تھے اُن پر قبضہ کر لیا۔

مستقبل کا نقشہ کیا ہو گا؟

افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے ظہور سے طالبان کی بالادستی شدید خطرے میں ہے۔ لیکن یہ کئی جگہوں پر اُن کے لیے مددگار بھی ہے۔ طالبان رہنما پہلے ہی خطے کے کئی مالک سے مذاکرات کررہے ہیں، اور اُنھیں اِس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ وہ دولتِ اسلامیہ کو افغانستان میں قدم جمانے اور اُن کے استحکام کے لیے خطرہ نہیں بننے دیں گے۔

ایران، چین اور روس جیسی ریاستوں کو افغان طالبان سے روابط نہ رکھنے کی سابقہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔

طالبان دولتِ اسلامیہ، افغان حکام اور اُس کے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں اور اُن کے ساتھ ساتھ وہ طالبان سے علیحدہ ہونے والے دھڑوں سے بھی لڑ رہے ہیں۔

اِس صورت حال سے خطے کے عدم استحکام میں اضافہ ہو گا۔ جب تک علاقائی ریاستیں قیام امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر عمل نہیں کریں گی، خطے کا مستقبل بہت ہیبت ناک نظر آ رہا ہے۔

اسی بارے میں