فیس بک پر افغان عہدیدار کی صدر سے مدد کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ مہینوں میں طالبان جنگجوؤں نے ملک کے کئی علاقوں میں افغان فوج کے خلاف کارروائیاں کی ہیں

افغانستان میں ایک نائب گورنر نے فیس بک کے ذریعے ملک کے صدر اشرف غنی سے صوبہ ہلمند میں طالبان کے ساتھ جاری لڑائی میں مدد مانگی ہے۔

سماجی رابطوں کی سائٹ فیس بک پر محمد جان رسول یار نے صدر غنی کو اپنے پیغام میں لکھا کہ گزشتہ دو دنوں سے ہلمند میں ہونے والی لڑائی میں 90 فوجی مارے جا چکے ہیں۔

محمد جان نے صدر غنی کو متنبہ کیا ہے کہ صوبے پر طالبان کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ صدر غنی کا عملہ ان کو درست اطلات فراہم نہیں کر رہا ہے۔

اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ پیغام دینے کے لیے فیس بک مناسب ذریعہ نہیں ہے محمد جان نے لکھا کہ ’ ہلمند دشمنوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور یہ قندوز کی طرح نہیں ہے جہاں کارروائی کرکے علاقے کو دشمن سے واپس لے لیا جائے گا، یہاں ایسا کرنا نا ممکن ہوگا۔‘

نائب گورنر محمد جان رسول یار نے صدر اشرف غنی سے صوبے میں براہ راست مداخلت کی اپیل کی ہے۔

محمد جان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہر کسی کو اقتدار سے محبت ہوتی ہے، مجھے بھی اپنا عہدہ پسند ہے، لیکن اپنی کرسی بچانے کے لیے میں اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘

’ ہلمند کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں اور اپنے آپ کو ان لوگوں سے دور کریں جو آپ کو بتاتے ہیں کہ صوبے کے حالات بلکل ٹھیک ہیں۔‘

خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں طالبان جنگجوؤں نے ملک کے کئی علاقوں میں افغان فوج کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جس کے باعث سکیورٹی فورسرز دباؤ کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں