بھارت میں ریپ کے سات مجرموں کو موت کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ کی ایک عدالت نے نیپال کی ذہنی طور پر معذور ایک 28 سالہ خاتون کے ساتھ ریپ اور قتل کے الزام میں سات افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے انھیں موت کی سزا سنا دی۔

عدالت نے اس واقعہ کو ایک انتہائی سنگین جرم قرار دیا۔ یہ واقعہ ہریانہ کے روہتک ضلع کے ایک گاؤں میں پیش آیا تھا۔

دہلی ریپ کیس میں نابالغ مجرم کی رہائی کے خلاف اپیل مسترد

دہلی ریپ کا نابالغ مجرم رہا، احتجاجی مظاہرین حراست میں

اس مقدمے میں قصور واروں نے متاثرہ خاتون کے ساتھ درندگی کا سلوک کیا تھا اور اسے ریپ کرنے کے بعد پتھروں سے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس مقدمے کے آٹھویں مفرور ملزم 22 سالہ سومبير نے اپنی گرفتاری کے فوراً بعد دہلی کے بوانا علاقے میں خود کشی کر لی تھی۔

اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق اس مقدمے کی خاتون جج سیما سنگھال نے مجرموں کو سزا سناتے ہوئے کہا ’بھارت میں خواتین کو مردوں کی جانب سے جرائم اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے اور ہم اپنے سسٹم میں صنفی تعصب دیکھتے ہیں تاہم یہ فیصلہ لوگوں کو ایک واضح پیغام وقت کی ضرورت ہے۔‘

متاثرہ خاتون کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق اس خاتون کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا، اس کا ریپ کرنے کے بعد اور موت سے پہلے اسے جسمانی اذیت دی گئی تھی۔

اٹاپسی رپورٹ سے بھی ظاہر ہوا تھا کہ متاثرہ خاتون کے سر، سینے، ران اور جنسی اعضا پر زخموں کے نشانات تھے۔

دوسری جانب ملزمان کے وکیل ڈاکٹر چراغ بھاردواج کہتے ہیں ’ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔‘

متاثرہ خاتون کا تعلق نیپال سے تھا اور وہ ریاست ہریانہ کے روہتک ضلع میں اپنی بہن کے خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔

وہ یکم فروری سنہ 2015 کو اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھیں اور چار فروری کو ان کی لاش ملی تھی۔

اسی بارے میں