بھارت: تضادات کا مرکب

تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 1996 میں راجستھان میں ہولی کے تہوار کے دوران ایک شخص کو ایک ہجوم کی جانب سے لے جایا جا رہا ہے

مقبول امریکی فوٹوگرافر سٹیو مکری تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بھارت آتے رہے ہیں۔

سال کی سب سے متاثرکن تصاویر

لوگ، جگہ اور قدرت

60 سے زیادہ مرتبہ بھارت کا دورہ کرنے والے سٹیو نے ایک بار کہا تھا کہ اس ملک نے انھیں زندگی کو دیکھنے اور انتظار کرنے کے بارے میں سکھایا تھا۔

ایک صحافی سے انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر آپ انتظار کرتے ہیں تو لوگ کیمرے کو بھول جاتے ہیں اور پھر اُن کی روح دکھائی دینے لگتی ہے۔‘

مکری وہ ہی فوٹوگرافر ہیں جنھوں نے سبز آنکھوں والی ایک افغان لڑکی کی تصویر کھینچی تھی جو دنیا میں جنگ کی علامت بن گئی تھی اور نیشنل جیوگرافک میگزین کی تاریخ کی سب سے معروف تصویر بن گئی تھی۔

فوٹوگرافر نے بھارت پر مبنی اپنی تصاویر ایک کتاب میں شائع کی ہیں۔

ان کی کتاب کا تعارف کراتے ہوئے مشہور مصنف ولیم ڈیرمپل نے لکھا ہے کہ ’ان خوبصورت تصاویر میں سے کچھ تو واقعی میں مقبولیت کی حقدار ہیں اور کچھ آج کے دور کے لیے نئی اور مناسب ہیں۔ یہ اس ملک کی خوبصورتی دکھاتی ہیں اور اس کے غیر معمولی تضادات پر روشنی ڈالی ہیں۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’یہ ایک بہت ہی مختلف بھارت کی تصاویر ہیں جو جدیدیت اور روایت کے درمیان ملحق ہیں، اور اس کتاب میں زیادہ تر تصاویر یہی بتاتی ہیں۔‘

یہ ہیں سٹیو مکری کی طرف سے لی گئی کچھ تصاویر جو ان کی کتاب ’سٹیو مکری: انڈیا‘ میں شائع کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 2010 میں راجستھان میں ایک قبائلی رہنما کی تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 1983 میں مغربی بنگال میں ایک ٹرین کے ساتھ لٹکی ہوئی سائیکلیں
تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 1993 میں ممبئی کے قریب بحیرہ عرب میں ہندو عقیدت مند اپنے دیوتا گنیش کے بت کو پانے میں بہانے کی رسم پوری کرنے جا رہے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 1983 میں آگرہ میں تاج محل کے سامنے سے ایک سٹیم انجن کے گزرنے کی تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 2012 میں اپنےہاتھی کے ساتھ سونے والے مہاوتوں کی تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 1999 میں تاج محل کی عکاسی
تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 1996 میں راجستھان کے صحرائے تھر میں بھارت کے اونٹوں کی سرحدی گشت کی تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ Steve McCurry
Image caption سنہ 1996 میں وراناسی شہر میں دریائے گنگا

اسی بارے میں