شیمپو اور دلیہ، یوگا گرو کا ایک اور آسن

Image caption بابا رام دیو اور ان کے ساتھی اچاریہ بالکرشنہ نے اپنی کمپنی کو 10 سال قبل شروع کیا تھا

بابا رام دیو بھارت کے سب سے مشہور یوگا گرو کہلائے جاتے ہیں اور ٹی وی پر نشر ہونے والے ان کے ورزش کے شوز ملک میں بہت مقبول ہیں۔

اپنے ہی بچوں کا ریکارڈ توڑ دیا!

’یوگا کو کسی مذہب کا رنگ دینا درست نہیں‘

لیکن اب وہ اپنی برانڈ کے ذریعے شیمپو سے لے کر دلیہ اور صابن سے لے کر انسٹنٹ نوڈلز تک فروخت کر رہے ہیں۔

ان کی کمپنی ’پتنجلی‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گذشتہ سال 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی فروخت کی اور بھارت میں اشیا بیچنے والی کمپنیوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی کمپنی ہے۔

زعفرانی رنگ کے لباس میں ملبوس، جوڑے میں بندھے لمبے بال، لکڑی کے جوتے پہنے ہوئے اور کندھے پر کپڑے کا ایک بیگ لٹکائے ہوئے بابا رام دیو دیکھنے میں بالکل ایک روایتی یوگا گرو لگتے ہیں۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے وہ بڑے مجمے کے سامنے ورزش کے طریقے دکھانے کے ساتھ ساتھ سانس لینے کی مشقیں بھی سکھا کر قدیم یوگ کے عمل سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔

لیکن جب انھوں نے مجھے شمالی بھارت کے ہردوار شہر میں قائم اپنی فیکٹری دکھائی تو یہ ظاہر ہو گیا کہ انھیں جدید کاروبار اور مارکیٹنگ کے بارے میں بھی اتنی ہی معلومات ہے جتنی کہ یوگا کے بارے میں۔

Image caption پنجلی کی مصنوعات میں تازہ ترین انسٹنٹ نوڈلز بھی پیش کی گئی ہیں جو متنازع کا موضوع بھی بنی ہیں

بابا رام دیو سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار اور مسلح گارڈز کے گھیرے میں تھے۔

انھیں دیکھ کر کئی ملازمین احترام میں ان کے پاؤں چھونے کے لیے آگے بڑھے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھی اچاریہ بالکرشنا نے اپنی کمپنی کو 10 سال قبل شروع کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بھارت میں، خوراک، کاسمیٹکس اورادویات کو اکثر غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیاں بناتی اور فروخت کرتی ہیں جس سے ہمارے ملک کا پیسہ باہر جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں کم پیسوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں لیکن ان کا منافع بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کا پیسہ بھارت میں ہی رہے۔‘

بابا رام دیو امید کرتے ہیں کہ ان کی اشیا میں لگائے گئے لیبل ’میڈ ان بھارت‘ ان کی کمپنی کے لیے بہت منافع بخش ثابت ہو رہے ہیں۔

با با رام دیو کا کہنا ہے کہ ان کی بنائی ہوئی کھانے کی چیزیں روایتی بھارتی اجزا سے بنائی جاتی ہیں۔

ان کی کمپنی کی جانب سے فروخت ہونے والی سب سے مقبول خوراک گائے کے دودھ سے بنا گھی اور مکھن ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی ناشتے میں کھائے جانے والے دلیے بھی بناتی ہے۔

Image caption بابا رام دیو اپنی برانڈ کے ذریعے شیمپو سے لے کر ناشتے کے سیریئل کی فروخت کرنے جا رہے ہیں

میں نے ممبئی شہر میں واقع پتنجلی کی ایک دکان کے گاہکوں سے بات کی۔

ایک گاہک شکھا جیتھوانی نے کہا کہ ’میں اپنے شوہر کے لیے بالوں میں لگانے والا تیل لے رہی ہوں کیونکہ ان کے بال بہت گرتے ہیں اور وہ جڑی بوٹیوں کے استعمال سے انھیں گرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔‘

نذیر احمد پتنجلی کی ٹوتھ پیسٹ ایک سال سے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بابا رام دیو کا نام اتنا بڑا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ ان کی کمپنی کی مصنوعات بالکل خالص ہوں گی۔‘

بھارت میں صارفین کی عادات کے بارے میں کتاب کے مصنف دھیرج سنہا کا کہنا ہے کہ ’بابا رام دیو کی برانڈ کے تیار ہونے میں کچھ وقت لگا ہے۔ اسے گذشتہ 10 برسوں سے یوگا، سیاسی پلیٹ فارم اور متعلقہ تحریکوں کے ذریعے بڑی احتیاط سے بنایا گیا ہے۔ بابا رام دیو بڑی چالاکی سے روحانیت کی آڑ میں چیزیں بیچ رہے ہیں۔‘

Image caption بابا رام دیو بھارت کے سب سے مشہور یوگا گرو کہلائے جاتے ہیں

یوگا گرو کے لاکھوں شائقین میں سے کئی لوگ ان کی مصنوعات پر یقین کرتے ہوں گے لیکن بابا رام دیو کے لیے ایک نقصان دہ بات یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی مصنوعات مارکیٹ میں دستیاب دیگر اشیا سے خاصی سستی ہیں۔

تو پھر مالی طور پر کمپنی کیسے چلتی ہے؟

بابا رام دیو کہتے ہیں: ’اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ہماری انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار کوئی تنخواہ نہیں لیتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’میں اس کمپنی کا خاص ترجمان ہوں اور کمپنی سے ایک روپیہ بھی نہیں وصول کرتا ہوں۔ میرے علاوہ اچاریہ بالکرشن بھی کمپنی سے کوئی پیسے نہیں لیتے ہیں۔‘

Image caption بابا رام دیو کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی کے امتظامیہ کے عالیٰ عہدیدار کوئی تنخواہ نہیں لیتے ہیں

بابا رام دیو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے اشتہارات کا بجٹ دیگر مصنوعات کی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

لیکن جہاں بابا رام دیو پتنجلی کو ایک کاروبار کی بجائے ایک سروس کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں وہاں پر کمپنی کے خلاف ایک سو سے زائد مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں جن میں دیگر الزامات سمیت ٹیکس کی چوری اور زمین پر قبضہ کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

بابا رام دیو کہتے ہیں: ’ہمارے خلاف کسی بھی عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ ہم نے درج کروائے گئے ان تمام مقدمات کے جواب حکومت کے متعلقہ اداروں کو دے دیے ہیں۔‘

پنجلی کی مارکیٹ میں آنے والی نئی مصنوعات میں تازہ ترین انسٹنٹ نوڈلز پر کافی تنازعہ ہوا۔ بھارت کے فوڈ سیفٹی اور معیار کے ادارے کا کہنا تھا کہ کمپنی کے پاس نوڈلز بنانے کے لیے لائسنس نہیں تھا۔

بابا رام دیو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس لائسنس بھی ہے اور انھوں نے ادارے کو اپنا جواب بھیج دیا ہے۔

ان کی کمپنی تو مارکیٹ میں اپنی اگلی مصنوعات کو متعارف کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے جن میں ’جلد کی کریمیں، بچوں کی لیے ایک مشروب اور بچوں کی دیکھ بال کے مصنوعات موجود شامل ہیں۔‘

کمپنی چاہتی ہے کہ اگلے سال اس کی فروخت کا ہدف سات کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچے۔

بابا رام دیو کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ لگتا ہے کہ وہ سانس لیے بغیر کام کر رہے ہیں، بالکل اپنی یوگا کی ورزشوں کی طرح۔

اسی بارے میں