چین: ملبے کی زد میں آنے والی عمارتوں میں زندگی کے آثار

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption امدادی کارروائی جاری ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کے اندر زندگی کے آثار مل رہے ہیں

چین میں امدادی اداروں کے اہلکاروں نے لینڈ سلائیڈنگ سے منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے ایک لاش نکال لی ہے جبکہ ایسی علامات سامنے آئی ہیں جن کے بعد خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملبے کے نیچے دبے کئی افراد ابھی زندہ ہیں۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کا کہنا ہے کہ لاش منگل کی صبح ملبے سے نکالی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اتوار کے روز چین کے جنوبی شہر شینزین کے صنعتی علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ سے 33 عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔

مقامی میڈیا نے وہاں کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک سات افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے جبکہ 81 افراد کی تلاش جاری ہے۔

لینڈسلائیڈنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوگوں کا بنایا ہوا مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ اچانک گر گیا تھا۔

مٹی کا یہ تودہ ایک مقامی پہاڑی کے ساتھ زیر تعمیر عمارتوں کے تعمیراتی سامان کے ملبے پر مشتمل تھا جو شدید بارشوں کے نتیجے میں اچانک نیچے جا گرا۔

منگل کے روز شن ہوا کا کہنا تھا کہ لاش کو مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے نکالا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے فرد کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اس حادثے میں ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

دیگر مقامی میڈیا کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے کارکنان نے ملبے میں کئی مقامات پر زندگی کے آثار محسوس کیے ہیں جس کے بعد چھ مختلف مقامات پر کھدائی جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدید بارش کی وجہ سے پہاڑی پر جمع ملبہ مکانوں پر آ گیا تھا

چین کے سرکاری ریڈیو چائنا نیشنل ریڈیو (سی این آر) کے مطابق حکام کی جانب سے اس دعوے کی تحقیق کی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نو زندہ افراد اس ہوسٹل میں پھنسے ہوئے ہیں جس کے سامنے کا حصہ اور داخلی راستہ ملبے سے مسدود ہو چکا ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق تلاش کے بعد اس عمارت میں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔

اتوار کے روز مٹی کا تودہ ضلعے بھر میں گرنے اور اس کے باعث قدرتی گیس کی پائپ لائن پر ہونے والے دھماکے کے بعد تقریباً 900 افراد کو علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں تقریباً تین لاکھ 80 ہزار مربع میٹر علاقہ مٹی تلے دب گیا ہے، جو فٹبال کے تقریباً 50 میدانوں کے برابر ہے۔ جبکہ کچھ حصوں پر مٹی کی اونچائی 32 فٹ تک ہے۔

پیر کے روز بغیر کوئی وجہ بتائے گم شدہ افراد کی تعداد 91 سے کم کر کے 85 کر دی گئی تھی۔

چین کی زمین اور وسائل کی وزارت کاکہنا ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے مقامی پہاڑی کے ساتھ تعمیراتی سامان کا کوڑا ڈھیر کیا جا رہا تھا۔

وزارت کا کہنا تھا کہ ’ڈھیر بہت بڑا اور بہت اونچا تھا۔ جس کے باعث بہ غیر مستحکم ہو کے منہدم ہو گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption منگل کو ایک لاش نکالی گئی ہے جبکہ ابھی بھی بہت سے لوگ لاپتہ بتائے جاتے ہیں

مقامی شخص یی جِمین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ ایک قدرتی حادثہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شدید بارشیں اور ان سے پہاڑوں کا منہدم ہونا قدرتی حادثہ ہوتا ہے، لیکن یہ حادثہ قدرتی نہیں تھا، یہ انسانی وجوہات کی بنا پر پیش آیا ہے۔‘

امدادی کارروائیوں میں ہزاروں افراد حصہ لے رہے ہیں جن کی مدد کے لیے زمین کھودنے والی مشینیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے کتے بھی موجود ہیں۔

ایک سال میں چین میں پیش آنے والا یہ چوتھا بڑا حادثہ ہے۔ پہلا حادثہ 2015 کے پہلے دن کی شام شنگھائی میں پیش آیا جب نئے سال کی تقریبات کے موقع پر بھگدڑ مچ گئی تھی۔

اس واقعے کے بعد یانگ ٹی دریا میں بحری جہاز ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جبکہ اس کے بعد تیان جن میں کیمیکل کے گودام میں لگنے والی آگ سے 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں