اروندھتی رائے کو توہین عدالت کا نوٹس

اروندھتی رائے تصویر کے کاپی رائٹ MIKE THOMSON
Image caption اروندھتی رائے اپنے باباک خیالات کے جانی جاتی ہیں

ممبئی ہائی کورٹ نے معروف مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے یہ نوٹس اروندھتی رائے کے ایک آرٹیکل کے بارے میں دیا ہے جس میں انھوں نے عدلیہ پر تنقید کی تھی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اروندھتی رائے نے دلی یونیورسٹی کے پروفیسر جی این سائیں بابا کی گرفتاری کے بارے میں جو آرٹیکل لکھا تھا اس میں انھوں نے پولیس، حکومت اور عدالت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عدالت نے کہا ہے کہ اروندھتی رائے کو لگتا ہے کہ وہ ’قانون سے بالاتر‘ ہیں۔

اروندھتی رائے کا جی این سائیں بابا کی گرفتاری سے متعلق یہ آرٹیکل اس برس مئی کے مہینے میں’ آؤٹ لک‘ ميگزین میں شائع ہوا تھا۔

عدالت نے یہ نوٹس جی این سائیں بابا کی ضمانت کی عرضی مسترد کرتے ہوئے دیا ہے۔

مہاراشتر کے ضلع گڈچرولی کی پولیس نے گزشتہ برس پروفیسر جی این سائیں بابا کو مبینہ طور پر ماؤ نواز باغیوں سے منسلک ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

ممبئی کی عدالت نے انھیں جون میں ضمانت دی تھی جس کی مدت 31 دسمبر کو ختم ہوجائے گی۔

ناگپور بینچ نے نہ صرف جی این سائیں بابا کی ضمانت کی عرضی مسترد کردی بلکہ انہیں سرنڈر کرنے کے لیے مزید وقت دینے سے بھی انکار کر دیا۔

کورٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ اگر سائیں بابا دو دن کے اندر اندر خود پولیس تھانے میں حاضر نہیں ہوتے ہیں تو انھیں گرفتار کرلیا جائے۔

اروندھتی رائے حکومت کی پالیسیوں اور پولیس نظام کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں اور مواؤ نواز باغیوں کے خلاف حکومتی آپریشن پر بھی تنقید کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں