چین میں انسدادِ دہشت گردی کے متنازع قوانین متعارف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کو ’ہنگامی حالات‘ میں بندوق یا چاقو سے مسلح حملہ آوروں پر گولی چلانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے

چین میں انسدادِ دہشت گردی کے نئے متنازع قوانین متعارف کروائے گئے ہیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قوانین بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

اتوار کو چینی مقننہ نے جن قوانین کی منظوری دی ان کے تحت انسدادِ دہشت گردی کا ایک نیا ادارہ اور نئی انسدادِ دہشت گردی فورس قائم کی جائے گی۔

سنکیانگ میں سکیورٹی آپریشن، 28 ہلاک

چینی پولیس کے ہاتھوں ’چاقو سے مسلح تین دہشت گرد‘ ہلاک

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا دائرۂ عمل بہت وسیع ہے اور انھیں حکومت کے مخالفین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نئے قانون کے تحت چین میں اب انسدادِ دہشت گردی کا ایک ہی ادارہ ہوگا جو ملک کی عوامی تحفظ کی وزارت کے مطابق ’دہشت گردوں اور ان کی سرگرمیوں کی نشاندہی اور ملک گیر سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔‘

ان قوانین کے تحت ملک میں ایک نیشنل انٹیلیجنس سینٹر کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ جہاں چینی فوج کو بیرونِ ملک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کی اجازت دی گئی ہے وہیں پولیس کو ’ہنگامی حالات‘ میں بندوق یا چاقو سے مسلح حملہ آوروں پر گولی چلانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp getty
Image caption چینی حکومت سنکیانگ کی مسلم اویغور آبادی کو عوامی مقامات پر حالیہ برسوں میں حملوں کا ذمہ دار قرار دیتی رہی ہے

چینی حکومت نے ملک کی ٹیلی کام کمپنیوں اور انٹرنیٹ کی سروس فراہم کرنے والوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ ’انتہا پسندی کے بارے میں معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تکنیکی مدد فراہم کریں گے۔‘

نئے قانون کے تحت دہشت گردی کی وارداتوں یا ان کے بارے میں حکام کے ردعمل کی آن لائن یا آف لائن رپورٹنگ کی اجازت صرف انھی ذرائع کو ہو گی جو حکومت سے منظور شدہ ہوں گے۔

حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان قوانین کی تیاری کے دوران ہی ان پر تحفظات ظاہر کر چکی ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے رواں برس مارچ میں کہا تھا کہ ان قوانین کے مذہبی اقلیتوں یا حکومت کے ناقدین کے خلاف استعمال کو روکنے کے لیے کوئی ’سیف گارڈ‘ موجود نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ قوانین عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں اور ان کے تحت بننے والے اداروں کو بہت زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔

معروف چینی منحرف ہو جیا نے پیر کو ان قوانین کے بارے میں ٹوئٹر پر اپنے تبصرے میں کہا کہ ’کیا ہو گا جب یہ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر تمام اقسام کے مظاہروں پر حملوں میں استعمال ہوں گے۔‘

اسی بارے میں