چائنا ٹیلی کام کے چیئرمین بدعنوانی کے الزام میں زیرتفتیش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینگ شیاؤبنگ پر نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی کا الزام ہے

چین کی سب سے بڑی سرکاری موبائل آپریٹر کمپنی چائنا ٹیلی کام کے چیئرمین کے خلاف انسداد بدعنوانی کے ادارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

چین کے مرکزی کمیشن برائے نظم و ضبط کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق چینگ شیاؤبنگ پر نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی کا الزام ہے۔

اتوار کو مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق چینگ شیاؤبنگ لاپتہ ہیں۔

بیجنگ میں بدعنوانی کے خلاف 2014 سے جاری اس کارروائی کے نتیجے میں سرکاری اداروں میں تعینات 70 سے زیادہ اعلیٰ افسران کو شامل تفتیش کیا جا چکا ہے۔ چینگ شیاؤبنگ اس فہرست میں نیا اضافہ ہیں۔

تاحال چینگ شیاؤبنگ پر کی جانے والی تفتیش کے متعلق بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں، لیکن ایک بیان میں یہ ضرور کہا گہا ہے کہ اس سے قبل وہ ملک کی دوسری بڑی موبائل آپریٹنگ کمپنی چائنا یونی کورن میں چیئرمین کے عہدے پر فائز تھے۔

58 سالہ چینگ شیاؤبنگ کو اس سال اگست میں چائنا ٹیلی کام کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔ اس سال کے شروع میں یہ خبریں بھی گردش میں تھیں کہ حکومت ملک کی دو بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کے انضمام پر غور کر رہی ہے۔

دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس تفتیش کا رخ ملک کے سرکاری اداروں سے نکل کر دیگر اداروں کی جانب بھی ہو گیا ہے۔

اس ماہ کے شروع میں چین کی سب سے بڑی پرائیویٹ ملٹی نیشنل کمپنی فوسن انٹرنیشنل کے چیئرمین گو گوانگ چینگ کے بھی لاپتہ ہونے کی اطلاعات تھیں، جس پر کمپنی نے اعلان کیا کہ انھوں نے ایسا تفتیش میں پولیس کی مدد کے لیے کیا۔ کچھ دن ہی بعد وہ دوبارہ منظر عام پر آ گئے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کا اس کارروائی میں بڑی کمپنیوں پر ہاتھ ڈالنے کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اپنی سنجیدگی ثابت کی جائے۔

لیکن کچھ لوگ اعلیٰ حکام کی برطرفی اور ان پر تفتیش کو ملک میں جاری سیاسی رسہ کشی سے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پکڑ دھکڑ اعلیٰ افسران کو حکومتی پارٹی کے موقف پر عمل کروانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں