بنگلہ دیش: آزاد خیال بلاگر کے قاتلوں کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلہ دیش میں سینکڑوں مظاہرین بلاگرز کو قتل کرنے کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں

بنگلہ دیش میں دو افراد کو سنہ 2013 میں ایک ملحد بلاگر کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

انٹرنیٹ پر اپنی تحریوں میں خدا کے وجود سے انکار کرنے والے احمد رجب حیدر کو سنہ 2013 میں اس وقت شدید ضربیں پہنچا کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ ڈھاکہ میں ایک جلوس میں شرکت کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔

دو افراد کو سزائے موت سنانے کے علاوہ عدالت نے چھ دیگر کو بھی احمد رجب حیدر کے قتل میں ملوث ہونے کا مرتکب پایا۔

بنگلہ دیش میں بلاگرز کا قتل، برطانوی شہری سمیت تین گرفتار

مبینہ طور پر بلاگر پر حملہ ’انصار اللہ بنگلہ‘ نامی گروہ نے کیا تھا۔ اس گروہ کے سربراہ کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ احمد رجب حیدر کے بعد سنہ 2015 میں بنگلہ دیش میں پانچ دیگر آزاد خیال بلاگرز اور ادیبوں کو بھی قتل کیا جا چکا ہے۔

احمد رجب حیدر بلاگرز کے اس گروپ میں شامل تھے جس نے سنہ 1971 کی جنگ میں جرائم کے مرتکب اسلامی جماعتوں کے رہنماؤں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

گزشتہ چند برسوں میں اسلام پسند گروہوں اور سیکیولر خیالات کی حامی عوامی لیگ کے کارکنوں کے درمیان کئی مرتبہ تصادم ہو چکا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلاگروں پر ہونے والے حملوں کو بنگلہ دیش میں ’آزادی اظہار‘ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی آزادیِ اظہار اور سیکیولر ازم کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

سیکیولر بلاگروں کی ہلاکتوں کے بعد ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا اور حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مذہب کا غلط استعمال کرنے والوں پر تنقید کرنے والوں کی حفاظت نہیں کر رہی۔

بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ ملک میں سیکیولر بلاگروں کی ہلاکتوں میں مبینہ طور پر ملوث اسلامی شدت پسند تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں