کابل میں ریستوارن پر خودکش حملہ، دو افراد ہلاک، 16 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانسیسی ریستوران میں سکیورٹی سخت ہوتی ہے اور یہاں بڑے بڑے آہنی دروازے نصب ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے غیر ملکیوں کے ریستوران پر حملہ کر کے دو افراد کو کو ہلاک کر دیا اور اس حملے کے نتیجے میں کم سے کم 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جمعے کو ہونے والے اس حملے میں فرانسیسی ریستوران کو نشانہ بنایا گیا۔

کابل میں ہسپانوی سفارتخانے کے قریب حملہ

کابل میں جرائم کی تحقیقات کےمحکمے کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد افغان شہری ہیں اور ایک حملہ آور کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم طالبان نے قبول کی ہے۔

حملے کے فوری بعد علاقے میں گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنائی دیں۔خبر رساں ادرے رویٹرز کے مطابق حملے میں ایک بارہ سالہ بچے بھی ہلاک ہوا پے۔

گذشتہ ماہ شدت پسندوں نے سپین کے سفارت خانے سے منسلک ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا تھا جس میں دو ہسپانوی پولیس آفسر سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تیمانی کا علاقے جہاں خودکش حملہ کیا گیا ہے، وہاں زیادہ تر غیر ملکی سفارت خانے اور سرکاری عمارتیں ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران طالبان نے افغانستان میں اہم عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

گذشتہ سال اگست میں کابل میں امریکی سفارت خانے نے متنبہ کیا تھا کہ تیمانی کے علاقے میں طالبان حملہ کر سکتے ہیں اور ’اُن کا ہدف غیر ملکی ہیں۔‘

کابل میں صحافی روچی کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ فرانسیسی ریستوران میں سکیورٹی سخت ہوتی ہے اور یہاں بڑے بڑے آہنی دروازے نصب ہیں۔

دھماکے سے نزدیلی عمارتوں کے شیشیے توٹ گئے۔

یہ حملے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب افغانستان اور پاکستان طالبان سے دوبارہ بات چیت کا آغاز کرنے کی کوشش کر رہے ۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جولائی میں ملا عمر کی ہلاکت کے بعد سے تعطل کا شکار ہے۔

افغان مصالحتی عمل سے متعلق افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے درمیان بات چیت 11 جنوری کو پاکستان میں ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں