پٹھان کوٹ: سوالات زیادہ اور جوابات کم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پٹھان کوٹ پر حملہ سنیچر کی صبح ہوا تھا

بھارتی شہر پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر گولہ باری کی گونج ابھی خاموش نہیں ہوئی ہے لیکن یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی معلومات ہونے کے باوجود بھی حملہ آوروں کو ايئر بیس میں داخل ہونے سے کیوں نہیں روکا جاسکا؟

انٹیلیجنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے، حملے سے پہلے انھوں نے ٹیلی فون پر سرحد پار اپنے ہینڈلرز اور اہل خانہ سے بات چیت بھی کی تھی، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق انھوں نے یہ بات چیت سنی ہے، اور ان کے خیال میں ممکنہ طور پر ان لوگوں کا تعلق جیش محمد سے ہے لیکن حکومت نے باضابطہ طور پر ابھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سنیچر کی شام وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ سبھی پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے، لیکن اس کے دو دن بعد بھی آپریشن جاری تھا اور وزیر داخلہ نے اپنی ٹوئیٹ کو اپنے اکاؤنٹ سے ہٹا دیا ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پیشگی اطلاعات مل جانے کے باوجود حملہ آوروں کو ایئر بیس میں داخل ہونے سے کیوں نہیں روکا جاسکا؟ حملہ آوروں نے جب جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات ایک پولیس افسر سے ان کی گاڑی چھینی، تو اس کےبعد کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرچ آپریشن پیر تک جاری رہا

حملہ آوروں نے پولیس افسر اور ان کے ایک ملازم کو زندہ کیوں چھوڑ دیا؟ انھیں مارا کیوں نہیں؟

رہائی کے بعد پولیس افسر نے کیا کیا؟ کیا یہ خبریں درست ہیں کہ شروع میں خود پولیس نے ان کی کہانی کو درست ماننے سے انکار کیا؟ جب پولیس افسرنے یہ انکشاف کیا کہ گاڑی چھیننے والوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں، تو پولیس نے کیا کارروائی کی؟

حملہ آور پولیس افسر کے جس سنار (زرگر) دوست کو اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ کیسے زندہ بچا جبکہ شدت پسندوں نے اسے گلا کاٹ کر مارنے کی کوشش کی؟

جب یہ واضح ہوگیا کہ کم سے کم چار شدت پسند علاقے میں موجود ہیں تو قومی سلامتی کے مشیر کی ہدایت پر نیشنل سکیورٹی گارڈ کے دستوں کو پٹھان کوٹ روانہ کردیا گیا۔ فضائیہ کے اڈے پر حملہ این ایس جی کے پٹھان کوٹ پہنچنے اور ریڈ الرٹ کا اعلان کیے جانے کے بعد ہوا حالانکہ اس علاقے میں مسلح افواج کا سب سے بڑا اثاثہ یہ ایئر بیس ہی ہے اور اس کے قریب ہی برّی فوج کی بڑی نفری تعینات ہے۔

اس لیے سوال یہ اٹھایا جارہا ہےکہ ایئر بیس سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر دور پولیس افسر کی گاڑی برآمد ہونے اور حملہ شروع ہونے کے درمیان تقریباً پورا دن کیا کارروائی ہوئی۔ ایئر بیس کے قریب گاڑی ملنا کیا اس بات کا واضح اشارہ نہیں تھا کہ حملہ آوروں کا نشانہ کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے

حملے کے تیسرے دن بھی واضح نہیں تھا کہ حملہ آوروں کی کل تعداد کتنی ہے، وہ دو ٹیموں میں تھے یا ایک، کیا آپریشن کو لمبا کھینچنا ہی ان کی حکمت عملی تھی، دو حملہ آور سنیچر کی شام سے اتوار کی دوپہر تک کیوں خاموش چھپے رہے، اگر حملہ آور دو ٹیموں میں تھے تو دوسری ٹیم فضائیہ کے اڈے تک کیسے پہنچی؟

فی الحال سوال زیادہ ہیں اور جواب کم۔ وقت کے ساتھ ہی اصل تصویر سامنے آئے گی کہ کس کو کیا معلوم تھا اور اگر مجموعی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے تو کیا اس حملے کو روکا یا اس سے ہونے والے جانی نقصان کو کم کیا جاسکتا تھا؟ ریڈ الرٹ کے باوجود اس حملے میں سات فوجی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں اور ان کی تعداد ہلاک ہونے والے شدت پسندوں سے زیادہ ہے۔

پٹھان کوٹ سے ملحق گرداس پور ضلعے میں گذشتہ برس بھی شدت پسندوں نے ایک پولیس ٹھانے پر حملہ کیا تھا۔ پٹھان کوٹ کی ایئر بیس اس جگہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جس طرح سے یہ آپریشن چل رہا ہے، تاثر یہ ملتا ہے کہ ممبئی پر سنہ 2008 کے حملے سے زیادہ سبق نہیں سیکھے گئے ہیں۔

اسی بارے میں