عملے سمیت دو امریکی کشتیاں ایران کے قبضے میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایران نے بتایا ہے کہ امریکی عملہ محفوظ ہے اور انھیں ’فوری طور پر اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی: امریکہ

امریکی حکام کے مطابق ایران نے اس کی دو بحری کشتیوں اور عملے کے دس افراد کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی کشتیوں پر ایران کے قبضے کا واقعہ خلیجِ فارس کے جزیرہ فارسی میں اس وقت پیش آیا جب دنوں میں سے ایک کشتی میں تکنیکی خرابی ہوگئی۔

ایک امریکی عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران نے کشتیوں کو خلیج فارس میں روکنے کے بعد ان میں موجود دس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ کویت سے بحرین جانے والے دو چھوٹے بحری جہازوں سے ہمارا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔‘

امریکی عہدے دار کے مطابق ایران نے بتایا ہے کہ امریکی عملہ محفوظ ہے اور انھیں ’فوری طور پر اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔‘

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران امریکی کشتیوں کو کب چھوڑے گا۔

اس واقعے کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کو فون کیا اور ان سے اس معاملے پر بات چیت کی۔

ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے جان کیری نے ذاتی طور پر ایرانی وزیرِ خارجہ سے رابطہ کیا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایرانی پاسدرانِ انقلاب کے گارڈز نے ایک خاتون اور نو مردوں کو حراست میں لیا ہے جو جنھوں نے ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

ایران کے قدامت پسند خبر رساں ادارے تاسنیم نے کہا ہے کہ امریکی کشتیوں میں مشین گنیں موجود تھیں۔

خیال رہے کہ طویل مذاکرات کے بعد ایران کا چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی ایک معاہدہ ہوچکا ہے تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان اس بریک تھرو کے باوجود کشیدگی قائم ہے۔

اس سے قبل سنہ 2007 میں ایران نے اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر برطانیہ کے بحری عملے کے 15 اہلکاروں کو 13 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا۔