تیزابی حملے سےمتاثرہ خاتون فیشن ماڈل کیسے بنیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Viva N Diva
Image caption لکشمی سا: ’ ہمارا حسن تباہ کرنے والے لوگ ہمارے حونسلہ نہیں ختم کر سکتے‘

بھارت میں ایک فیشن ہاؤس نے تیزاب کے حملے کا نشانہ بننے والی ایک خاتون کو اپنے ڈیزائنر کپڑوں کی ایک نئی لائن کا نمائندہ مقرر کیا ہے۔

لکشمی سا 15 سال کی تھیں جب ایک 32 سالہ شخص کے رشتے کو انکار کرنے کے بعد اس نے ان کے منہ پر تیزاب پھینک دیا تھا۔

واقعے کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’پہلے تو مجھے اپنے چہرے پر ٹھنڈک سی محسوس ہوئی، پھر شدید جلن۔ میری جلد پگھلنے لگی تھی۔‘

اس واقعے کے بعد لکشمی بھارت میں تیزابی حملوں کے خلاف قومی مہم کی مرکزی کارکن بن گئی ہیں۔ وہ تیزاب کی فروخت پر پابندیاں اور حملہ آوروں کے لیے زیادہ سخت سزائیں چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کے فیشن برینڈ کی نمائندہ بننے کے بعد وہ تیزابی حملوں سے متاثر خواتین کے لیے مثال بن سکیں گی جو اپنے حلیے سے مطمئن نہیں ہیں یا جن کا اپنے پر اعتماد کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Viva N Diva
Image caption لکشمی سا بھارت میں تیزابی حملوں کے خلاف قومی مہم کی مرکزی کاکرن بن گئی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ آوروں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے: ’ ہمارا حسن تباہ کرنے والے لوگ ہمارے حوصلے ختم نہیں کر سکتے‘۔

تیزابی حملوں سے متاثر خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ایدیڈ سروائورز ٹرسٹ‘ کے مطابق بھارت میں ہر سال ایک ہزار سے زیادہ حملے ہوتے ہیں جن میں اکثر پولیس کو رپورٹ نہیں ہوتے۔

اس کے باوجود ملک میں تیزاب سے حملہ کرنے والے افراد سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص قانون نہیں ہے۔

’ویوا اینڈ ڈیوا‘ نامی فیشن ہاؤس کا کہنا تھا کہ انھوں نے لکشمی کو اس لیے اپنا نمائندہ بنایا کیونکہ وہ دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حسن صرف انسان کے جسم یا چہرے میں نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ vivandiva
Image caption لکشمی سا پندرا سال کی تھیں جب ایک بتیس سالہ شخص کے رشتے کو انقار کرنے کے بعد اس نے ان کے منہ پر تیزاب پھینک دیا تھا۔

’ویوا اینڈ ڈیوا‘ کی مشترکہ بانی روپیش جھاور کا کہنا تھا کہ انھیں اس مہم کا خیال تب آیا جب انھوں نے تیزابی حملوں سے متاثر خواتین کا ایک کلینڈر دیکھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ: ’میں خوبصورت جلد اور ہر لحاظ سے بے نقص ماڈلز کو دیکھنے کا اتنا عادی تھا کہ جب میں نے ان خواتین کی تصاویر دیکھیں تو یہ میرے لیے ایک پریشان کن، لیکن حوصلہ افزا لمحہ تھا۔ مجھے حسن کا ایک نیا روپ نظر آیا اور ہم یہ لوگوں کو بتانا چاہتے تھے۔‘

اسی بارے میں