آزادی ٹاور، ’ایرانی تہذیب کی عظمت کا نشان‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

گذشتہ 45 سال سے ایران کے ٹی وی چینلز پر تہران سے آنے والی ہر بڑی خبر کے پس منطر میں ایرانی دارالحکومت کی مشہور اور جدید یادگار، آزادی ٹاور دکھائی دیتا ہے۔

یہ عمارت ملک کے بڑے مواقعوں کے لیے مشہور ہے، جہاں اہم دنوں کی سالگرہ منائی جاتی ہے، فوجی پریڈ منعقد کی جاتی ہیں اور عوامی احتجاج کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں۔

اس عمارت کو سنہ 1971 میں جدت پسندی اور ایران کی ترقی کے نشان کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد تک اس کے خالق ماہر تعمیرات حسین امانت کو توقع نہیں تھی کہ یہ عمارت ’ایران کے عوام میں اتنی مقبولیت حاصل کر لے گی اور ایک اہم نشان بن جائے گی۔‘

شروع میں اس عمارت کو شاہ کی یادگار یا ’شاہ یاد‘ کا نام دیا گیا۔ اسے ایرانی بادشاہت کے 2500 سال مکمل ہونے کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد ایرانی تاریخ اور تہذیب کی عظمت کا اعتراف کرنا تھا۔

اس یادگار کے خالق حسین امانت نے سنہ 1966 میں اس یادگار کو تعمیر کے لیے ایران کا قومی مقابلہ جیتنے کے بعد ایران میں کافی شہرت حاصل کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hossein Amanat
Image caption حسین امانت نے انقلاب کے بعد ایران چھوڑ دیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں آئے

شاہ یاد کی تفصیلات

شہر کے پرانے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے آنے والی سڑک پرمغربی تہران میں واقع یہ عمارت سفید سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی ہے، جس کے اطراف میں 50000 مربع میٹر کا احاطہ ہے۔ احاطے کو باغات، فواروں سے مزین کیا گیا ہے جبکہ اس میں ایک میوزیم اور نمائشی مرکز بھی موجود ہے۔

1960 کی دہائی کے وسط میں ایران تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک میں شامل تھا جس نے شاہ محمد رضا پہلوی کو صنعتی ترقی میں قسمت آزمائی کی جانب مائل کیا۔

اس عرصے کے دوران ایران کا جدید فن بھی ساتھ ساتھ ترقی کررہا تھا۔ حسین امانت کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’چھوٹے پیمانے کا نشاۃ ثانیہ‘ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hossein Amanat
Image caption آزادی ٹاور کا افتتاح سنہ 1971 کی خزاں میں کیا گیا

مصور، شاعر اور موسیقار اپنا ایک منفرد، اور مختلف انداز تخلیق کر نے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، جس میں مغرب کے فن سے مرعوب ہے ہونے کے ساتھ ان کی نظر ایرانی تہذیب کے ثقافتی عناصر پر بھی تھی۔

حسین امانت کہتے ہیں کہ شاہ یاد کا انداز بھی اسی دور کی عکاسی کرتاہے، جس میں اسلام سے قبل اور بعد کے دونوں طرز تعمیر نمایاں ہیں۔

آزادی ٹاور کو مکمل ہونےمیں 30 ماہ لگے اور اس کا افتتاح سنہ 1971 کی خزاں میں کردیا گیا۔

اس موقع پر برطانیہ کے برٹش میوزیم سے اصلی ’سائرس سیلنڈر‘ مانگ کر ٹاور کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا، جسے بہت سے تاریخ دان انسانی حقوق کا پہلا بل مانتے ہیں۔

اس ٹاورکو 14 جنوری 1972 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

ایران کی پہچان

انقلاب ایران کے دوران سنہ 1979 میں ٹاور کے احاطے کو احتجاج کرنے والے مظاہرین کے جمع ہونے کی لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اور آج تک اس مقام پر احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں۔

حال ہی میں سنہ 2009 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے آزادی ٹاور کے گرد جمع ہوکر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aristotle Saris
Image caption انقلاب ایران کے دوران سنہ 1979 میں ٹاور کے احاطے کو احتجاج کرنے والے مظاہرین کے جمع ہونے کی لیے استعمال کیا جانے لگا

حسین امانت کہتے ہیں کی ٹاور پر ہونے والے تمام مظاہروں میں وہ مظاہرہ سب سے ’یادگار‘ تھا۔

بیرون ملک رہنے والے بہت سے ایرانیوں کے لیے اس احتجاج نے قوم کا ایک بالکل مختلف رخ پیش کیا۔

حسین امانت کے لیے وہ مناظر ذاتی اور جذباتی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ عمارت ایک باپ کے سائے کی طرح لگتی تھی جس نے اپنے سامنے تمام لوگوں کو اپنے بچوں کی طرح اپنی بانہوں میں سمیٹ رکھا ہو۔

ان کو یقین ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں تعمیر شدہ یہ ٹاور جو بیک وقت ایرانی تمدن اور اسلامی روایات کا شاہکار ہے، کی تاریخی حیثیت اس کا ایران کی شناخت کے طور پر ارتقا ہے۔

بہت سے ایرانیوں کو انقلاب کے دوران یا بعد میں ذاتی، سیاسی مذہبی یا پھر شاہ سے وفاداری جیسی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا یا پھر فرار ہونا پرا۔

حسین امانت نے بھی انقلاب کے بعد ایران چھوڑ دیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 2009 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے آزادی ٹاور کے گرد احتجاج کیا

حالانکہ وقت کے ساتھ آزادی ٹاور کو کافی نقصان پہنچا ہے، لیکن حسین امانت کہتے ہیں کہ انھوں نے مشیر کے عہدے پت رہنے کے باوجود کبھی بھی ذاتی طور پر اس کی مرمت کی درخواست کی۔

حسین امانت آج کل کینیڈا کے علاقے وینکوور میں رہتے ہیں، جہاں وہ ایک کامیاب تعمیراتی کمپنی چلاتے ہیں، اور دنیا بھرمیں عمارتیں تعمیر کرچکے ہیں۔

ایران کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت بہائی عقیدے سے تعلق رکھنے والے حسین امانت کو اسرائیل کے شہر حائفہ میں بہائی انتظامی مرکز کی تعمیر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کی بہائی کمیونٹی کو بہت سے شہری حقوق سے محروم کردیا گیا ہے اور سیکڑوں بہائیوں کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر قید جبکہ کچھ کو قتل تک کردیا گیا ہے۔

مغربی ممالک میں رہنے والے بہت سے ایرانی جن میں بہائی بھی شامل ہیں اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہبں لیکن خوفزدہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hossein Amanat
Image caption حسین امانت کو اسرائیل کے شہر حائفہ میں بہائی انتظامی مرکز کی تعمیر کا اعزاز بھی حاصل ہے

حسین امانت کہتے ہیں ’میں اپنے وطن ایران کو بہت یاد کرتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فی الحال مجھے وہاں نہیں جان چاہیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایران کا طرز تعمیر ’منفرد‘ ہے اور ان کو افسوس ہے کہ تقریباً 30 سال عمر میں ایران چھوڑنے کے بعد وہ اپنے ملک کو مزید نہیں دیکھ سکے۔

اسکا ازالہ انھوں نے ایک منفرد کتاب چھاپ کر کیا ہے جس میں انھوں نے ایران کی ان تمام تاریخی عمارتوں اور مقامات کی تصاویر بنائیں ہیں جہاں وہ اپنے بچبپن میں جایا کرتے تھے۔

’میں ان کو خواب میں دیکھتا ہوں اور اپنے خیالات میں کئی مرتبہ وہاں جا بھی چکا ہوں۔‘

اسی بارے میں